چین میں آئی فون کی نقلی فیکٹری پر چھاپہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس میں پرانے سمارٹ فونز کے پرزے لگائے جاتے تھے

چین میں امریکی الیکٹرانک کمپنی ایپل کے نقلی آئی فون بنانے والی ایک فیکٹری پکڑی گئی ہے اور اس سلسلے میں نو افراد کو گرفتار کیا گيا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس کمپنی نے ابھی تک تقریباً 41 ہزار نقلی آئی فون بنائے تھے۔

اس کام میں مبینہ طور پر ’سینکڑوں‘ ملازم شامل ہیں جو پرانے سمارٹ فونز کے پرزے کو نیا بنا کر نئے آئی فونز کے طور پر برآمد کر رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان نقلی آئی فونز کی قیمت تقریباً 12 کروڑ یوان یا دو کروڑ امریکی ڈالر تھی۔

اطلاعات کے مطابق اس فیکٹری کی دریافت 14 مئی کو ہوئی تھی لیکن بیجنگ کے پبلک سکیورٹی بیورو نے اس کا انکشاف گذشتہ اتوار کو کیا۔

نقلی آئی فونز بنانے کا کام جنوری میں شروع کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق اس فیکٹری کی سربراہی دو میاں بیوی کر رہے تھے اور یہ فیکٹری دارالحکومت بیجنگ کے شمالی علاقوں کے حاشیے پر تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس سے قبل چین میں ایک نقلی ایپل سٹور بھی پکڑا گيا تھا

چینی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی حکام نے آگاہ کیا تھا کہ کیونکہ انھوں نے چند نقلی فونز پکڑے تھے۔

یہ خبر ایسے وقت میں آئی ہے جب چینی حکام نقلی سامان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور کمپنیوں کو اپنے سامان کا ٹریڈ مارک بنانے کی ترغیب دے رہا ہے۔

دوسری جانب چین نے امریکی حکام کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان بڑے پیمانے پر نقلی ساز و سامان کی آمد و رفت کو روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

خیال رہے کہ چار سال قبل چین کے کنمنگ شہر میں بھی اپیپل کے نقلی سٹور پائے گئے تھے۔

بلاگر برڈ ایبروڈ نے اس فیکٹری کو دریافت کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ نقل اس قدر مسلم تھی کہ اس کے بعض سٹاف یہ سمجھتے تھے کہ انھیں امریکہ کی الیکٹرانک کمپنی نے ملازمت دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں