کان کے میل کا علاج ناک سے غبارہ پھلا کر

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption غبارہ پھلانے کے اس عمل سے کان پر دباؤ بڑھتا ہے اور اس کے نتیجے میں کان کے میل باہر آتے ہیں

برطانیہ کی ساؤتھمپٹن یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ناک سے غبارہ پھلانے سے کان کے میل سے نجات ملتی ہے۔

غبارہ پھلانے کے اس عمل سے کان پر دباؤ بڑھتا ہے اور اس کے نتیجے میں کان کا میل باہر آجاتی ہے۔

تحقیق میں ایسے 320 بچوں کو لیا گیا جن کے کان میں میل تھی۔ انھوں نے دن میں تین بار ناک سے غبارے پھلائے۔

ایک مہینے بعد ان میں سے علاج نے کروانے والے 36 فی صد بچوں کے مقابلے 47 فی صد بچوں کے کان صاف ہو گئے تھے۔

کان کے میل سے ہر پانچ میں سے چار بچے 10 سال کی عمر تک متاثر ہوتے ہیں۔ اور اس میں اینٹی بایوٹکس، سمیت مختلف اقسام کی دوائیاں بے اثر ہوتی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کان اور حلق کے درمیان والی نلی ہوا کو ناک سے کان کے بیچ والے حصے میں لے جاتی ہے۔

یہ جگہ کان کے پردے کے پشت پر ہوتی ہے اور اس میں تین انتہائی چھوٹی اور نازک ہڈیاں ہوتی ہیں جو کہ صوتی لہروں کو کان تک لے جانے میں معاون ہوتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کان کے میل سے ہر پانچ میں سے چار بچے 10 سال کی عمر تک متاثر ہوتے ہیں

کان کے میل ان ہڈیوں کی حرکت میں مخل ہوتی ہے اور اس سے سماعت متاثر ہوتی ہے۔

سنگین صورت حال میں کان کے پردے میں سرجری کے ذریعے ایک سوراخ کرکے کان کے میل کو نکالا جاتا ہے۔

تحقیق کرنے والوں میں شامل ڈاکٹر ایان ولیمسن کا کہنا ہے کہ بہت سے ڈاکٹر پہلے سے ہی غباروں کا استعمال کر رہے ہیں لیکن اس کے بارے میں محدود شواہد تھے۔

انھوں نے بی بی سی کوبتایا: ’یہ ذرا عجیب لگ سکتا ہے لیکن یہ با مقصد طریقہ ہے۔ ہم اپنے نتائج کے بارے میں پر اعتماد ہیں اور یہ طریقہ علامات اور زندگی کو بہتر بنانے کے اچھے طریقے کے ساتھ نقصان دہ علاج کو کم کرنے میں بھی مددگار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اب اسے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جانا چاہیے۔‘

آسٹریلیا میں کوئنزلینڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر کرس ڈیل مار اور ٹیمی ہوف مین نے کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل میں لکھا ہے کہ ’مشق کے دوران کان کے میل کے علاج کے لیے غیر طبّی طریقہ پراثر رہا۔‘

خیال رہے کہ یہ تحقیق بھی اسی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

اسی بارے میں