’ورجن گلیکٹک قبل از وقت بریک لگنے کی وجہ سے تباہ ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خلائی جہاز گذشتہ برس اکتوبر میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے صحرائے موہاوی میں تجرباتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا

ورجن گلیکٹک نامی خلائی راکٹ کی تباہی کی تحقیقات کرنے والوں نے اس حادثے کی وجہ معاون پائلٹ کی جانب سے بریک کے نظام کو وقت سے پہلے ’ان لاک‘ کرنا قرار دی ہے۔

امریکہ کے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے کہا ہے کہ بریکوں کا نظام چالو ہونے کے بعد ایرو ڈائنیمک قوت کی وجہ سے خودبخود بریک لگی اور اس کے نتیجے میں انتہائی تیز رفتاری سے سفر کرتا ہوا جہاز ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔

ورجن گلیکٹک سپیس شپ دوم نامی خلائی جہاز گذشتہ برس اکتوبر میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے صحرائے موہاوی میں تجرباتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

اس حادثے میں پائلٹ شدید زخمی اور معاون پائلٹ ہلاک ہوگیا تھا۔

منگل کو این ٹی ایس بی کے سربراہ کرسٹوفر ہارٹ نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ اس حادثے کی تحقیقات کے نتیجے میں مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption این ٹی ایس بی کے سربراہ کرسٹوفر ہارٹ نے امید ظاہر کی کہ تحقیقات کے نتیجے میں مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے گا

حادثے کے بعد ورجن گروپ کے سربراہ سر رچرڈ برینسن نے کہا تھا کہ وہ یقینی طور پر اس حادثے کے بارے میں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ’کیا غلط ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے تجرباتی پائلٹس کا حق ہے کہ ہم جانیں کہ کیا غلط ہوا اور جب ہمیں پتا چلے گا اگر ہم اس خامی کو دور کر سکے تو ہم اسے کریں گا تو یقینی بنائیں گے کہ یہ خواب حقیقت کا روپ دھارے۔‘

خیال رہے کہ ورجن نے امید ظاہر کی تھی کہ وہ تجارتی سطح پر خلائی سفر کا آغاز 2015 تک کر سکے گی اور اس نے اس سلسلے میں 700 کے قریب مسافروں کی بکنگ بھی کی ہوئی تھی جو اس سفر پر جانا چاہتے ہیں۔

ان میں خود سر رچرڈ برینسن بھی شامل ہیں جنھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پہلے سفر میں خود شریک ہوں گے۔

ورجن کے اس تجارتی خلائی سفر کے لیے ہر مسافر نے ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر ادا کرنے ہیں۔

اسی بارے میں