زمبابوے کا مشہور شیر ہلاک کرنے پر امریکی شکاری نادم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 13 سالہ شیر ’سیسل‘ زمبابوے کے مشہور ہوانگے نیشنل پارک میں آنے والے سیاحوں میں بہت مقبول تھا

زمبابوے میں ’سیسل‘ نامی مشہور شیر کو ہلاک کرنے والے امریکی ڈاکٹر والٹر پامر کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا ہدف کونسا شیر تھا اور انھیں سیسل کو نشانہ بنانے کا افسوس ہے۔

’سیسل‘ کو زمبابوے میں اس کی سیاہ ایال (گردن کے بال) کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔

زمبابوے میں پولیس نے اس شیر کی ہلاکت کے معاملے میں دو افراد کو حراست میں لیا ہے اور کہا ہے کہ پامر کو بھی غیرقانونی شکار کے الزام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم امریکی ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر والٹر پامر کا کہنا ہے کہ انھوں نے شیر کی تلاش کے لیے ماہر گائیڈز کی مدد لی تھی اور اس سلسلے میں ضروری اجازت نامے بھی ان کے پاس تھے۔

والٹر کے مطابق انھیں شیر کا شکار کرنے کے بعد ہی پتا چلا کہ جس جانور کو انھوں نے ہلاک کیا ہے وہ ملک کا مشہور شیر تھا۔

زمبابوے میں جنگلی حیات کی ٹاسک فورس کا کہنا ہے کہ والٹر نے ہوانگے نیشنل پارک کی حدود سے باہر شیر کے تیر سے شکار کے لیے 50 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔

والٹر کے تیر سے گھائل ہونے کے بعد شیر کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا اور اس کے بعد اس کی کھال اور سر اتار لیا گیا تھا۔

پولیس نے اس معاملے میں ایک پیشہ ور شکاری اور ایک فارم کے مالک کو حراست میں لے کر ان کے خلاف غیرقانونی شکار کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا ہے کیونکہ اس گروپ کے پاس شکار کا پرمٹ نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thomas Joyce
Image caption والٹر کے مطابق انھیں شیر کا شکار کرنے کے بعد ہی پتا چلا کہ جس جانور کو انھوں نے ہلاک کیا ہے وہ ’سیسل‘ تھا

انھیں بدھ کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اگر ان پر یہ الزام ثابت ہوا تو انھیں 15 برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

تاہم والٹر پامر جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ امریکہ لوٹ چکے ہیں، کا اصرار ہے کہ ان کے گائیڈز نے تمام ’ضروری اجازت نامے‘ حاصل کر لیے تھے۔

منگل کو ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’میں نے شکار کو قانونی بنانے کے لیے اپنے مقامی پیشہ ور گائیڈز کی مہارت پر بھروسہ کیا تھا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فی الحال ان سے زمبابوے یا امریکہ میں حکام نے کوئی رابطہ نہیں کیا اور اگر ایسا ہوا تو وہ مکمل تعاون کریں گے۔

والٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ انھیں شدید پچھتاوا ہے کہ ان کا اپنا شوق پورا کرنے کی یا قانونی اور ذمہ دارانہ کوشش کا نتیجہ اس شیر (سیسل) کی موت کی شکل میں نکلا۔‘

13 سالہ شیر ’سیسل‘ زمبابوے کے مشہور ہوانگے نیشنل پارک میں آنے والے سیاحوں میں بہت مقبول تھا۔

خیال ہے کہ اسے یکم جولائی کو ہلاک کیا گیا تاہم اس کا ڈھانچہ کئی دن بعد ہی دریافت ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Paula French
Image caption ٹاسک فورس کے سربراہ جونی رودریگز کے مطابق سیسل ایک انتہائی خوبصورت جانور تھا جو کسی کو پریشان نہیں کرتا تھا

زمبابوے کنزرویشن ٹاسک فورس کے مطابق شکاریوں نے اسے رات کو نیشنل پارک کی حدود سے باہر نکالنے کے لیے ممکنہ طور پر کسی جانور کو بطور چارہ استعمال کیا۔

والٹر پامر نے سیسل کو تیر سے زخمی کیا اور ان کی شکار پارٹی کو 40 گھنٹے بعد ہی اس کا دوبارہ پتہ چل سکا اور تب اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

زمبابوے کنزرویشن ٹاسک فورس کے مطابق شکاریوں نے اس کے گلے میں موجود اس پٹے کو بھی تباہ کرنے کی کوشش کی جس سے اس کی موجودگی کا پتہ حکام کو چلتا تھا تاہم وہ ناکام رہے۔

ٹاسک فورس کے سربراہ جونی رودریگز کے مطابق سیسل ایک انتہائی خوبصورت جانور تھا جو کسی کو پریشان نہیں کرتا تھا۔

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب پارک میں شیروں کے گروپ کا نیا سربراہ سیسل کے چھ بچوں کو بھی ہلاک کر دے گا تاکہ سیسل کی مادہ کو اپنی جانب متوجہ کر سکے۔

جونی رودریگز نے کہا کہ ’جنگل کا یہی نظام ہے۔ یہاں قدرت اپنا راستہ خود بناتی ہے۔‘

خیال رہے کہ زمبابوے بھی ان افریقی ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلی حیات کو غیرقانونی شکاریوں کی وجہ سے معدومی کا خطرہ ہے۔