زمبابوے کو ایک اور شیر کے شکاری کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ Paula French
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جان کاسمر سیسکی نے اپریل میں ایک شیر کو ہلاک کیا تھا

زمبابوے میں حکام کا کہنا ہے کہ انھیں غیرقانونی طور پر شیر کا شکار کرنے والے ایک اور امریکی شہری کی تلاش ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل زمبابوے کے ماحولیات کے وزیر نے کہا تھا کہ زمبابوے میں ’سیسل‘ نامی مشہور شیر کو ہلاک کرنے والے امریکی ڈاکٹر والٹر پامر کو زمبابوے کے حوالے کیا جانا چاہیے۔

زمبابوے کی نیشنل پارکس اینڈ وائلڈ لائف مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ امریکی ریاست پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جان کاسمر سیسکی نے اپریل میں ایک شیر کو ہلاک کیا تھا۔

حکام کے مطابق اس وقت سے زمبابوے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص زیرحراست ہے۔

نیشنل پارکس اتھارٹی کی جانب سے اس نئے معاملے کے بارے میں بہت کم معلومات بتائی گئی ہیں تاہم اتوار کو ان کا کہنا تھا شیر کا شکار اجازت نامے کے بغیر کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ شکار ایک زمبابوین شہری کی مدد سے کیا گیا تھا جو ایک سفاری کمپنی کا مالک ہے۔

اتھارٹی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے وہ غیر قانونی شکار کی سرگرمیوں کے خاتمے اور کریک ڈاؤن کے لیے تحقیقات پر یقین رکھتے ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حالیہ معاملہ انہی تحقیقات سے سامنے آیا ہے۔

بیان میں پینسلوینیا کا دیا گیا پتہ جان کاسمر سیسکی کے نام سے ہے تاہم اس سے زیادہ معلومات مہیا نہیں کی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی ڈاکٹر والٹر پامر کو انٹرنیٹ پر ’سیسل‘ کو ہلاک کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا بھی رہا ہے

خیال رہے کہ مشہور شیر سیسل کا شکار کرنے والے امریکی ڈاکٹر والٹر پامر نے اس کے شکار کے لیے ہوانگ نیشنل پارک میں 50 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا خیال تھا یہ شکار قانونی ہے اور وہ سیسل کے زیرتحفظ ہونے کے بارے میں آگاہ نہیں تھے۔

امریکی ڈاکٹر والٹر پامر کو انٹرنیٹ پر ’سیسل‘ کو ہلاک کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔

امریکی ریاست مینیسوٹا جہاں ڈاکٹر والٹر پامر کا ڈینٹل کلینک اس واقعہ کے بارے سے بند ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر والٹر کو زمبابوے کے حوالے کرنے والی پٹیشن پر غور کرے گا جس میں دس ہزار سے زائد افراد نے دستخط کیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنیسٹ کا کہنا تھا کہ کسی بھی امریکی شخص کو کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے کا ردِعمل دینا امریکی محکمۂ انصاف کا کام ہے۔

اسی بارے میں