انٹرنیٹ سکیورٹی میں خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیکرز کا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption سائبر سیکیرٹی کے ماہر برائن ہونان کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں اس کمزوری کا فائدہ اٹھانے کے واقعات میں اضافہ متوقع ہے

ایک سکیورٹی کمپنی کے مطابق ہیکرز نے انٹرنیٹ میں ایک سنگین نقص تلاش کر لیا ہے جس کے تحت وہ ایسے سسٹمز پر حملہ کرتے ہیں جو ’یو آر ایل‘ کو ’آئی پی‘ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

انٹرنیٹ کی اس کمزوری کو استعمال کرتے ہوئے ہیکرز ویب سائیٹس پر ’ڈینائل آف سروس‘ حملہ کر کے ان کو معطل کر سکتے ہیں۔

تاہم اس سے انٹرنیٹ کے عام صارفین متاثر نہیں ہوں گے۔

بیشتر ویب سائٹس پر استعمال ہونے والے’ڈومین نیم سسٹم‘ یعنی’ڈی این ایس‘سافٹ وئیر ’بائنڈ‘ کہلاتا ہے۔

.انٹرنیٹ میں پائی گئی یہ حالیہ ’بگ‘ یا خامی ہیکرز کو سافٹ وئیر کریش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے جس سے ڈی این ایس سروس معطل ہو جاتی ہے۔

اس ’بگ‘ کے لیے ایک ’پیچ‘ یعنی توڑ موجود ہے تاہم بیشتر سسٹمز ابھی اپ ڈیٹ ہونے باقی ہیں۔

’بائنڈ‘ کی خالق کمپنی ’انٹرنیٹ سسٹمز کنسورشیم (آئی ایس سی)‘ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ انٹرنیٹ سکیورٹی میں یہ کمزوری ’تشویش ناک‘ ہے اوراس کا غلط استعمال کرنا’آسان‘ ہے۔

انٹرنیٹ سکیورٹی کمپنی ’سوکوری‘ سے وابستہ نیٹ ورکنگ کے ماہر ڈینیل سِڈ نے اس بارے میں ایک بلاگ لکھا ہے جس کے مطابق اس کمزوری کا فائدہ اُٹھایا جا چکا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمارے کچھ صارفین جن کا تعلق مختلف کمپنیوں سے ہے ان کے ڈی این ایس سرور اس کی وجہ سے کریش کر گئے۔ ہمارے تجربے کے مطابق ’بائنڈ‘، ’اپاچی‘ اور ’ اوپن ایس ایس ایل‘ جیسے سرور سوفٹ وئیر اتنی فراوانی سے ’پیچ‘ نہیں ہوتے جتنا کے انھیں ہونا چاہیے۔

سائبر سکیورٹی کے ماہر برائن ہونان کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں اس کمزوری کا فائدہ اٹھانے کے واقعات میں اضافہ متوقع ہے تاہم ڈی این ایس سرور کریش ہونے کے باوجود بھی محفوظ کیے گئے یو آر ایل اور دوسرے ذرائع سے ویب سائٹس تک رسائی پھر بھی ممکن ہو گی ۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ کوئی قیامت نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ’پیچ‘ کے آنے تک ڈی این ایس سٹرکچر کام کرتا رہے۔

ڈینیل سِڈ کاکہنا ہے کہ اس کا اثر انٹرنیٹ کے عام صارفین پر بہت کم ہو گا۔

’عام صارفین کو اس کی وجہ سے کچھ ویب سائٹس اور ای میل تک رسائی نہ ہونے سے بڑھ کر کوئی اور دقت نہیں ہو گی۔‘

اسی بارے میں