سندر پچائی گوگل کے نئے سربراہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پِچائی کی جائے پیدائش بھارتی شہر چینیئی ہے اور وہیں سے اُنھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی

گُوگل کی نئی کمپنی ’الفابیٹ‘ بننے کے بعد اس میں اعلیٰ سطح پر اہم انتظامی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

لیری پیج اب ’ایلفابیٹ‘ کے چیف ایگزیکٹیو ہیں جبکہ سرگی بِرن اِس کی صدر ہیں۔

43 سالہ سندر پِچائی ترقی پانے کے بعد گوگل کے سربراہ بن گئے ہیں۔

یہ خبر جہاں پچائی کے لیے بہت زبردست ہے وہیں بھارت کے لیے بھی بہت اچھی ہے۔ مائیکروسافٹ کے ستیہ نڈیلا کے بعد یہ دوسری بھارتی ہیں جن کو امریکی ٹیکنالوجی انڈسٹری میں اتنی اہم تقرری ملی ہے۔

پچائی کی اپنی کہانی بھی قابلِ ذکر ہے اور جس طرح گوگل میں انھوں نے ترقی کی ہے اس سے ٹیکنالوجی کی عالمی مارکیٹ میں بھارت نے اپنے لیے جو جگہ بنائی ہے اُس کی توثیق ہوتی ہے۔ دوسری طرف نام نہاد ’امریکی خواب‘ کی بھی ایک بار اور یاد دہانی ہو جاتی ہے۔

پچائی کی جائے پیدائش بھارتی شہر چینئی ہے اور وہیں سے اُنھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔ اپنے سکول کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے اور اُن کی قیادت میں اس ٹیم نے علاقائی مقابلوں میں کامیابی بھی حاصل کی۔

انھوں نے میٹلرجیکل انجینئرنگ کی تعلیم انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کھڑاگ پور سے حاصل کی۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے اُن کے ایک اُستاد نے بتایا کہ پچائی ’اپنی جماعت میں سب سے قابل‘ طالب علم تھے۔

اُنھوں نے 2004 میں گُوگل میں ملازمت شروع کی۔ اُن کی زیرِ نگرانی گُوگل نے جو اہم مصنوعات تیار کیں ان میں گُوگل کا ویب براؤزر ’کروم‘ اور موبائل فون میں استعمال ہونے والا آپریٹنگ سسٹم اینڈروئڈ شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
Image caption اُن کی زیرِ نگرانی گُوگل نے جو اہم مصنوعات تیار کیں ان میں گُوگل کا ویب براؤزر، کُروم، اور موبائیل فون میں استعمال ہونے والا آپریٹنگ سسٹم اینڈرائڈ شامل ہیں

دنیا بھر میں موبائل فونوں میں استعمال ہونے والے آپریٹنگ سسٹمز میں اینڈروئڈ کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک چونکا دینے والی حقیقت بھی ہے کہ یہ وُہی پچائی ہیں جن کے گھر والوں کے پاس ٹیلیفون صرف اُس وقت آیا تھا جب ان کی عمر 12 سال تھی۔

اُن کے بارے میں بُلومبرگ میگزین میں چھپنے والے ایک مضمون کے مطابق ان کی پرورش انتہائی سادگی کے ساتھ ہوئی۔ ان کا خاندان دو کمروں کے ایک مکان میں رہتا تھا اور پچائی کے پاس اکیلے خود کے لیے کوئی کمرا نہیں تھا بلکہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ ایک کمرے میں فرش پر سوتے تھے۔

اُن کے گھر والوں کے پاس نہ تو ٹیلی وژن تھا اور نہ ہی گاڑی۔

پچائی کے والد نے بچپن سے ان کے ذہن میں ٹیکنالوجی میں دلچسپی کا بیج بو دیا تھا اوراس کی وجہ ان کی برطانوی جنرل الیکٹرک کمپنی کی نوکری بھی ہوسکتی ہے۔ (یاد رہے یہ اس کا تعلق امریکن جنرل الیکٹرک سے نھیں ہے)

ان کے والد رگوناتھ پچائی نے بُلومبرگ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں گھر آنے کے بعد اُن سے اپنے دن بھر کے کام کے اور اُس میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں کافی گفتگو کیا کرتا تھا۔‘ اس کے ساتھ انھوں یہ بھی بتایا کہ سندر کے اندر ٹیلیفون نمبرز یاد رکھنے کی خاص صلاحیت تھی۔

آئی آئی ٹی کھڑاگ پور سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد پچائی کو ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے ذہین دماغوں کے مرکز سٹینفرڈ یونیورسٹی میں وظیفے کی پیشکش ہوگئی تھی۔ امریکہ تک جہاز کے سفر کا خرچہ اُن کے والد کی سالانہ تنخواہ سے بھی زیادہ تھا۔

گُوگل میں پچائی کو خاصا پسند کیا جاتا ہے اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک نرم گفتار شخص ہیں۔ وہ ڈویلپرز میں خاصے مقبول ہیں اور ہر سال گُوگل کی سالانہ تقریب I/O کے منتظم بھی وہی ہوتے ہیں۔

لیری پیج اپنے بلاگ پوسٹ پر حال ہی میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’سُندر کافی عرصے سے وہ تمام باتیں کہہ رہے ہیں جو میں خود کہتا (اورکبھی تو مجھ سے بھی بہتر!)، اور مجھے ان کے ساتھ کام کر کے بہت مزا آ رہا ہے۔‘

لیری پیج اور سرگی بِرن پہلے ہی پچھلے کافی عرصے سے گُوگل کے روزانہ کے معاملات سے دور ہیں اور آج کا اعلان بس پچائی کوانچارج بنانے کی باضابطہ اطلاع ہے۔

ان کی زیرنگرانی بننے والی مصنوعات کو گُوگل میں مرکزی حیثیت حاصل ہے جن میں، سرچ، تشہیر، نقشے اور یو ٹیوب شامل ہیں۔

وہ معاملات جو ان کی توجہ طلب ہیں ان میں سب سے اہم یو ٹیوب اور فیس بُک کے درمیان وڈیو شیئرنگ کے حوالے سے جاری کشمکش ہے۔

فیس بک نے سائٹ پر وڈیوز کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ کردیا ہے۔ لیکن پھر بھی فی الحال یوٹیوب وّیوز شیئر کرنے والی سب سے زیادہ مقبول سائٹ ہے۔

اسی بارے میں