دنیا کے ’پہلے پھول دار پودے‘ کی دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ڈیوڈ ڈلچر کا کہنا ہے کہ ’پہلا پھول تکنیکی اعتبار سے ایک اساطیری بات ہے جیسے کہ پہلا انسان‘

امریکی ماہر نباتیات کا کہنا ہے کہ ایک قدیم پودا جو آج کل یورپ کے نام سے جانے جانے والے علاقے میں زیر آب اگتا تھا، دنیا کا قدیم ترین پھول دار پودا ہو سکتا ہے۔

محققوں نے یہ دعویٰ مونٹی سیچیا ویڈالی ای Montsechia Vidalii نسل کے ایک ہزار سے زیادہ فوسلز کا تجزیہ کرنے کے بعد کیا ہے۔

یہ پودا تالاب میں اگنے والی گھاس جیسا ہی دکھائی دیتا ہے لیکن یہ ایک بیج والا پھل دیتا ہے۔ یہ خصوصیات کسی پھول دار پودے کی سی ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ پودا ہسپانوی جھیلوں میں ساڑھے 12 کروڑ سال پہلے اگتا تھا۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں ماہر نباتیات ڈیوڈ ڈلچر کا کہنا ہے کہ’پہلا پھول تکنیکی اعتبار سے ایک اساطیری سی بات ہے جیسے پہلا انسان۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس نئے تجزیے کے مطابق اب ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر یہ زیادہ قدیم نہیں تو یہ اسی دور کا ہے جیسا کہ آرکائی فروکٹس نامی زیر آب اگنے والا پودا جو چین میں دریافت کیا گیا تھا۔‘

سائنس دان مونٹی سیچیا ویڈالی ای پودے کے بارے میں بہت پہلے سے جانتے تھے۔

اس کے فوسلز سپین کے ایبیرین رینج اور پرینیز کے مانٹسیک رینج سے تقریباً سو سال پہلے دریافت کیے گئے تھے۔

تاہم ڈاکٹر ڈلچر کا کہنا ہے کہ بہت سے فوسلز کو غلط سمجھا گیا تھا کیونکہ مونٹی سیچیا پر ’کسی قسم کے پھول کا کوئی حصہ مثلاً پتیاں یا رس پیدا کرنے والا حصہ نہیں پایا گیا تھا جس سے کیڑے اس کی طرف راغب ہوتے ہوں۔‘

اسی بارے میں