’چین میں کاربن کا اخراج تخمینے سے 40 فیصد کم‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحقیق کے مطابق لگایا گیا مجوزہ غلط تخمینہ 2013 میں دنیا بھر میں خارج ہونے والی کاربن کا دس فیصد تھا

چین کے بجلی گھروں میں استعمال ہونے والے کوئلے کی اقسام کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی کے باعث کاربن کے اخراج کا تخمینہ توقع سے زیادہ لگایا جاتا رہا ہے۔

سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا جو حساب لگایا گیا ہے وہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے فارمولے کے تحت لگایا گیا تھا۔

سائنس دانوں نے جب چین میں استعمال ہونے والے کوئلے کی اقسام کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ کاربن کا اخراج لگائے گئے تخمینے سے 40 فیصد کم ہو رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق لگایا گیا مجوزہ غلط تخمینہ 2013 میں دنیا بھر میں خارج ہونے والی کاربن کا دس فیصد تھا۔

اقتصادی طاقت بننے کی خواہش میں گذشتہ 15 سالوں میں چین نے توانائی کے شعبے میں پیداوار بڑھانے کے لیے کوئلے کا استعمال بڑھا دیا ہے۔

چین میں کوئلے کے بجلی گھروں کی تعمیر کے جن اعداد و شمارکا حوالہ دیا جاتا تھا ان کے مطابق اوسطاً ہر ہفتے کوئلے سے چلنے والے ایک نیا بجلی گھر تعمیر کیا جا رہا تھا۔ 2006 میں یہ اوسط بڑھ کر دو ہفتوں میں تین بجلی گھروں تک جا پہنچی تھی۔

اگرچہ حالیہ برسوں میں چین میں توسیعی کاموں میں کمی آئی ہے لیکن کوئلے پر بڑی حد تک انحصار کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافہ ہوا ہے۔ 2007 سے اب تک چین پوری دنیا میں سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والا ملک ہے۔

بین الاقوامی سائنس دانوں کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق کے بعد شبہات پیدا ہوگئے ہیں کہ چین کی جانب سے فضا میں کاربن کے اخراج کا صحیح تناسب کیا ہے۔

چین توانائی کی پیداوار کے اعداد و شمار تو معمول کے مطابق شائع کرتا رہتا ہے تاہم کاربن کے اخراج کے بارے میں کوئی باقاعدہ معلومات شائع نہیں کی جاتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس نئی تحقیق میں چین کی 4000 سے زائد کوئلے کی کانوں سے نکلنے سے والے کوئلے میں کاربن کی مقدار کا جائزہ لیا گیا

عالمی اداروں کی طرف سے کوشش کی جا رہی ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے صحیح اعداد و شمار کا تخمینہ لگایا جا سکے، اور اس کے لیے توانائی کے اعداد و شمار کو استعمال کرتے ہوئے ’اخراج کے عوامل‘ کا جائزہ لیا جائے۔ اس سے یہ پتہ چل سکے گا کہ کس ایندھن کے استعمال سے کتنا کاربن خارج ہوتا ہے۔

بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم آئی پی سی سی کی طرف سے فراہم کیے جانے والے عوامل کاربن کے اخراج کا اندازہ اس بات سے کرتے ہیں کہ کس قسم کے کوئلے پر انحصار کیا جا رہا ہے، اور اسی بنا پر بین الاقوامی سطح پر موازنہ ممکن ہوتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں چین کی 4000 سے زائد کوئلے کی کانوں سے نکلنے سے والے کوئلے میں کاربن کی مقدار کا جائزہ لیا گیا، اور 602 نمونوں کا لیبارٹری میں جائزہ لیا گیا۔ کاربن کے اخراج کے جو نتائج جانچ کے بعد سامنے آئے وہ آئی پی سی سی اور دیگر اداروں کے طے شدہ اعداد و شمار کے مقابلے میں 40 فیصد کم تھے۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اس تحقیق کے محقق ہارورڈ یونی ورسٹی کے ڈاکٹر جُو لُو کہتے ہیں: ’ترقی یافتہ ممالک میں کوئلے کے استعمال کا جامع طور پر خاتمہ کیا جا چکا ہے جبکہ چین میں یہ عمل اتنا جامع نہیں ہے۔‘

’اصل میں کوئلے میں راکھ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اور زیادہ راکھ کا مطلب ہے کم کاربن۔ اگر ہم اسی قسم کے کوئلے پر زیادہ انحصار کریں تو کاربن کا اخراج کم ہوگا۔ اسی لیے اخراج کے سطح گذشتہ تخمینوں کے مقابلے میں کم سامنے آئی ہے۔‘

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں لگائے گئے اندازوں کے برعکس چین اوسط معیار کا کتھئی کوئلہ استعمال کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاربن کے اخراج کے لگائے گئے اندازے صحیح ثابت نہیں ہوئے۔ کتھئی کوئلہ، اعلیٰ معیار کے خام کوئلے کے مقابلے میں کم کاربن خارج کرتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار میں پائے جانے والے تضادات انتہائی اہم ہیں۔ اُن کے مطابق گذشتہ اندازوں کے برعکس 2000 سے 2013 کے دوران چین میں کاربن کااخراج تقریباً تین گیگاٹن کم تھا جو ایک سال میں پوری دنیا کے کاربن کے اخراج کا دس فیصد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار میں پائے جانے والے تضادات انتہائی اہم ہیں

ڈاکٹر جُو کہتے ہیں کہ ’چونکہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں چین کا حصہ ایک تہائی ہے اس لیے یہ نتائج عالمی سطح پر بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر ہم چین میں کاربن کے اخراج میں 15 فیصد کمی کر دیں تو یہ اجتماعی عالمی اعداد و شمار کا پانچ فیصد ہو گا۔

’آئی پی سی سی کے عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کے اعداد و شمار پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔‘

دیگر سائنس دان ان نتائج پر متفق نظر نہیں آتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نئی تحقیق کے بعد چین کی جانب سے کاربن کے اخراج کے اعداد و شمار میں تو درستگی آئی ہے تاہم اس سے دنیا بھر کے مجموعی اعداد و شمار پر فرق نہیں پڑا۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے پروفیسر ڈیوریے کہتے ہیں: ’ہو سکتا ہے چین کی طرف سے ہونے والا کاربن کا اخراج ہمارے اندازوں سے کم ہو لیکن ہم جانتے ہیں فضا میں کتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ موجود ہے۔ اور اُس کی عالمی سطح پر جانچ کی جاتی ہے۔

’ لہٰذا اس تحقیق سے فضا میں موجود کاربن کی مجموعی مقدار پرکوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، اس کا مطلب بس یہ ہے کہ چین میں کاربن کےاخراج کے اعداد و شمار بہتر طور پر سامنے آ رہے ہیں۔‘

دوسری جانب اس تحقیق پر کام کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ عالمی منظرنامہ کچھ بھی ہو اس تحقیق کے اثرات اُن تمام ممالک تک بھی پہنچیں گے جو مختلف اقسام کا کوئلہ استعمال کرتے ہیں، اور ان ممالک میں اس حوالے سے معلومات واضح نہیں ہیں۔

اس تحقیق کے ایک اور مصنف، ایسٹ اینگلیا یونی ورسٹی کے پروفیسر ڈیبو گوئن کہتے ہیں: ’چین کوئلہ استعمال کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ کوئلہ استعمال کرنے والے دیگر ممالک بھارت، انڈونیشیا، اور جنوبی افریقہ کے پاس معلومات اکٹھا کرنے اور اعداد و شمار کی تصدیق کا جامع نظام موجود نہیں ہے۔‘

’اس سلسلے میں بھارت اور انڈونیشیا کی صورتِ حال اور بھی غیر یقینی ہے۔ یہ تحقیق دنیا کے جنوبی حصے کے لیے ایک آغاز ہو سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں