زحل کے چاند کی ’الوداعی‘ تصاویر

Image caption اس سے قبل 2011 میں ڈائیونی کے قریب جانے کی کوشش کی گئی تھی

خلائی جہاز کیسینی نے اپنے مشن کے آخری مرحلے میں سیارہ زحل کے ’ڈائیونی‘ نامی چاند کی قریب سے لی ہوئی تصاویر بھیجی ہیں۔

کیسینی پیر کو زحل کے 11 سالہ دورے کے دوران ڈائیونی کی دھبے دار سطح سے 500 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرا۔ یہ اس خلائی جہاز کا اس قسم کا پانچواں چکر تھا۔

کیسینی اپنی آخری مشاہداتی کارروائیاں سرانجام دے رہا ہے اور 2017 میں یہ خود کو تباہ کرنے کے لیے زحل کی فضا میں غوطہ لگا دے گا۔

اس مشن کی تصاویر پر کام کرنے والی ٹیم کی سربراہ کیرولین پورکو کا کہنا ہے کہ ’میں جذباتی ہو گئی تھی، اور میں جانتی ہوں کہ ڈائیونی اور اس کی سطح کی ایسی نادر تصاویر دیکھ کر باقی سب لوگ بھی جذباتی ہو جائیں گے، خاص طور پر یہ جانتے ہوئے کہ زمین سے اتنی دور اس سیارے کی ایک طویل عرصے تک یہ آخری تصاویر ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ان آخری تصاویر تک کیسینی نے انتہائی قابلِ اعتماد اور نادر معلومات فراہم کی ہیں، ہم کتنے خوش نصیب ہیں۔‘

Image caption آئندہ سال کیسینی اپنے آپ کو زحل کے مدار میں داخل کرے گا اور بتدریج اس سیارے کے حلقوں کے اندر چلا جائے گا، اس کے بعد وہ زحل کی فضا میں جا کر تباہ ہو جائے گا

اس سے قبل ڈائیونی کے قریب جانے کی کوشش سنہ 2011 میں کی گئی تھی، جب امریکی، یورپی اور اطالوی خلائی ایجنسی کا یہ جہاز اس چاند کے 100 کلومیٹر قریب تک پہنچ گیا تھا۔

ڈائیونی کی چوڑائی 1122 کلومیٹر ہے، اور اس کی بیرونی سطح برفانی اور اندرونی سطح پتھریلی ہے۔

کیسینی کو ڈائیونی کی فضا میں کم مقدار میں آکسیجن بھی ملی ہے اور کچھ ایسے اشارے بھی ملے ہیں کہ شاید اس کا اندرونی حصہ ابھی تک متحرک ہو کیوں کہ اس کی سطح پر موجود بعض جغرافیائی مظاہر اندرونی عمل کی وجہ سے تبدیل ہو چکے ہیں۔

آئندہ سال کیسینی اپنے آپ کو زحل کے مدار میں داخل کرے گا اور بتدریج اس سیارے کے حلقوں کے اندر چلا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NASA JPL CALTECH SSI
Image caption ڈائیونی کی چوڑائی 1122 کلو میٹر ہے اور اس کی بیرونی سطح برفانی اور اندرونی سطح پتھریلی ہے

پھر جب 2017 میں جیسے ہی اس طیارے کا ایندھن ختم ہو جائے گا تو زمینی کنٹرولر اسے سیارے کی فضا میں غوطہ لگانے کی کمانڈ دیں گے جہاں یہ تباہ ہو جائے گا۔

جیسے ہی کیسینی سیارہ زحل کی جانب بڑھے گا تو یہ بہت زیادہ گرم ہو کر پگھلنے لگے گا اور شدید دباؤ کی وجہ سے تباہ ہو جائے گا۔

اس مشن کے اس طرح سے اختتام کا مطلب ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کا کہ کیسینی کا ملبا کسی بھی طور پر زحل کے دوسرے دو چاندوں ٹائٹن اور اینسیلیڈس پر نہ گر سکے۔

ان دونوں چاندوں کو غیر ارضی زندگی کے امیدواروں کے طور دیکھا جاتا رہا ہے اور سائنس دان ان کو کیسینی پر ممکنہ طور پر موجود کسی بھی قسم کے زمینی جراثیم سے آلودہ نہیں کرنا چاہتے۔ اگرچہ اس بات کا امکان بہت کم ہے۔

آئندہ مہینوں کے دوران کیسینی اپنے اختتامی مراحل میں زحل کے بہت سے چاندوں کے قریب سے گزرے گا۔

پیر کو ڈائیونی کے قریب سے گزرنے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر پورکو نے کہا کہ ’یہ ایک طویل الوداع کا آغاز ہے۔‘

اسی بارے میں