خلا میں جانے کے لیے ’ایس‘ دبائیے

تصویر کے کاپی رائٹ THOTHX.COM
Image caption کینیڈا کی مقامی میڈیا کے مطابق سپیس ایلیویٹر کا یہ خیال ابتدائی مراحل ہی میں مشکلات کا شکار ہے

کینیڈا کی ایک ٹاور تعمیر کرنا چاہتی ہے جس ایک لفٹ جس کو سپیس ایلویٹر کا نام دیا گیا ہے کے ذریعے خلا باز مدار کے بہت قریب پہنچ سکیں گے۔

یہ ٹاور دنیا کی بلند ترین عمارت دبئی کے برج خلیفہ جو کہ 2723 فٹ بلند ہے سے 20 گنا زیادہ بلند ہو گا۔

سپیس ایلویٹر کا خیال 1895 میں روسی سائنسدان کونسٹنٹین سیلوسکی نے دیا تھا۔ انھوں نے یہ خیال پیرس کے آئفل ٹاور کو دیکھ کر دیا۔

اس خیال کو ایک صدی بعد آرتھر سی کلارک نے اپنے ناول میں پیش کیا۔

کینیڈا کی مقامی میڈیا کے مطابق سپیس ایلیویٹر کا یہ خیال ابتدائی مراحل ہی میں مشکلات کا شکار ہے۔

پچھلے ہفتے تھوتھ ٹیکنولوجی کو امریکہ میں سپیس ایلیویٹر کا پیٹنٹ دیا گیا۔ تھوتھ ٹیکنولوجی کا منصوبہ کینیڈا کی کمپنی کے منصوبے سے بہت سادہ ہے لیکن اس میں کہا گیا ہے کہ اس لفٹ کے باعث خلا کے سفر کی قیمت میں بہت کمی واقع ہو گی۔

کینیڈا کے شہر اونٹاریو میں قائم کمپنی دی پیمبروک نے 20 کلومیٹر یعنی 63 ہزار فٹ بلند ٹاور پر پلیٹ فارم سے سیاحت، آبزرویشن، سائنسی تحقیق اور مواصلات کے لیے راکٹ لانچ کیا جا سکے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ٹاور کی وجہ سے خلا میں جانے کا خرچہ ایک تہائی کم ہو جائے گا۔

اسی بارے میں