قیمتی گھڑیاں خریدار کے دروازے تک

Image caption ان کی گھڑیوں کے ڈیزائنوں سے ان کا ایک مخصوص انداز جھلکتا ہے، جیسے ستارے، قطبی روشنیوں کے ہالے اور چاند

جب صارفین کو اچھی کسٹمر سروس دینے کی بات آتی ہے تو بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس میدان میں قیمتی گھڑیاں بنانے والی کمپنی گرونفیلڈ کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی صارف ان سے گھڑی خریدتا ہے، تو وہ ذاتی طور پر اس کے ہاتھ میں پہنچائی جاتی ہے، چاہے خریدنے والا دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہو۔

کمپنی کے شریک بانی 43 سالہ ٹم گرونفیلڈ کا کہنا ہے کہ ’ہم جب بھی کوئی گھڑی بیچتے ہیں، ہماری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنی تخلیق کو خریدنے والے کے ہاتھ میں دیں، اس بات سے قطع نظر کہ وہ دنیا کے کس خطے میں رہ رہا ہے۔

’ہم ان کے پاس جاتے ہیں اور ایک ڈنر یا چھوٹی سی تقریب منعقد کر کے گھڑی ان کے حوالے کرتے ہیں۔‘

آپ کے دماغ میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ نیدرلینڈ کی ایک غیر معروف، خاندانی کاروبار کے تحت چلنے والی کمپنی اتنا بڑا خرچ کس طرح برداشت کر سکتی ہے؟

لیکن جب ان کی گھڑیوں کی قیمت دو لاکھ ڈالر کے قریب تک پہنچ جاتی ہو تو پھر اس میں سے جہاز کا کرایہ تو نکل ہی آتا ہے۔

اور چونکہ گرونفیلڈ سال میں صرف 30 گھڑیاں بناتی ہے، اس لیے انھیں اپنے یہاں ترسیل کا کام کرنے والے افراد کی فوج رکھنے کی ضرورت نہیں۔

گرونفیلڈ کے کاروبار میں صرف 12 افراد شامل ہیں، جو ٹم اور ان کے 46 سالہ بھائی بریٹ نے 2008 میں شروع کیا تھا۔

محدود تعداد

تصویر کے کاپی رائٹ Gronefeld
Image caption ہر گھڑی ہاتھ سے بنائی جاتی ہے جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں

دنیا میں قیمتی گھڑیاں بنانے والے ممالک میں سوئٹزرلینڈ ہمیشہ سے سرفہرست رہا ہے۔

گھڑی سازی کی صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق رولیکس، سواچ گروپ (جو اومیگا گھڑیاں بناتا ہے) اور رچمونٹ جیسے بڑے برانڈز کی بدولت 2013 میں سوئس گھڑیوں کی مجموعی برآمدات 21 ارب ڈالر تھیں۔

مجموعی طور پر سوئٹزرلینڈ میں 90 کے قریب گھڑی ساز کمپنیاں ہیں۔ اس صنعت کی نمائندہ رولیکس روزانہ تقریباً دو ہزار گھڑیاں بناتی ہے۔ تصویر کی دوسری جانب ڈیزائنر گھڑیاں بنانے والی چھوٹی کمپنیاں ہیں، جو سال میں سو سے بھی کم تعداد میں گھڑیاں بناتی ہیں۔

سوئٹزر لینڈ اس صنعت پر حاوی ہے، تاہم یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی چھوٹی چھوٹی کمپنیاں قائم ہیں جو لگژری گھڑیاں بناتی ہیں۔ گرونفیلڈ کا شمار بھی ایسی ہی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔

محدود پیمانے پر

اپنی تشہیر اور معاونت کے لیے بڑے بجٹ والی سواچ جیسی کمپنیوں کے برعکس یورپ کی چھوٹی گھڑی ساز کمپنیاں کس طرح صنعت میں اپنا مقام بناتی ہیں اور خریدار کیسے تلاش کرتی ہیں؟

Image caption 2013 میں قسمت نے سپیک مارین کا ساتھ دیا جب ایک فلم بنانے والی کمپنی نے ان سے رابطہ کیا

فن لینڈ کے سٹیپان سرپنیوا صرف آرڈر پر گھڑیاں بناتے ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی سرپنیوا ٹائم پیس کی سالانہ تعداد 50 سے بھی کم ہوتی ہے۔

45 سالہ سرپنیوا نے 2013 میں کاروبار شروع کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ’میں نے شروع ہی میں فیصلہ کر لیا تھا کہ مجھے اپنی گھڑیوں کا معیار برقرار رکھنا ہے، جس کا مطلب ہے کہ میں سال میں ایک مخصوص تعداد میں گھڑیاں بناؤں۔

’اسی لیے میرے پاس بہت کم تعداد میں خوردہ فروش ہیں جو میری 50 فیصد گھڑیوں کو فروخت کرتے ہیں، جبکہ باقی 50 فیصد میں خود ہی بیچ دیتا ہوں۔

’میں آرڈر پر گھڑیاں تیار کرتا ہوں، اس لیے مجھے یقین ہوتا ہے کہ میں جو بنا رہا ہوں وہ یقیناً بک جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ان کو بیچنے کے لیے بہت تگ و دو نہیں کرنا پڑتی یا پھر فروخت بڑھانے کے لیے سیلزمینوں کی فوج نہیں بھرتی کرنا پڑتی۔‘

سرپنیوا نے یہ فن فن لینڈ کے واچ میکنگ سکول اور سوئٹزرلینڈ کے واچ میکرز ٹریننگ اینڈ ایجوکیشنل پروگرام سے سیکھا ہے۔ ان کو ایک پیچیدہ ترین گھڑی بنانے کے لیے صرف دو ہفتے درکار ہوتے ہیں۔

Image caption گرونفیلڈ سال میں صرف 30 گھڑیاں بناتی ہے

ان کی گھڑیوں کے ڈیزائن سے ان کا ایک مخصوص انداز جھلکتا ہے۔ جیسے ستارے، قطبی روشنیوں کے ہالے اور چاند۔

کچھ سال پہلے سرپنیوا نے نسبتاً سستی برانڈ کی گھڑی ایس یو ایف متعارف کرائی تھی، جو کم وقت میں آسانی سے بنائی جا سکتی ہے۔

ایس یو ایف گھڑیاں بنانے کا مقصد خریداروں کی ایک بڑی تعداد کو متوجہ کرنا تھا، ان کی قیمتیں بھی تین ہزار یورو تک ہوتی ہیں، اور پیداوار ہر سال صرف 90 ٹائم پیس تک محدود ہے۔

ہالی وڈ

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 47 سالہ پیٹر سپیک مارین نے2002 میں اپنے نام سے گھڑی سازی کے کاروبار کا آغاز کیا۔

مختصر افرادی قوت کے ساتھ اپنے کاروبار کا آغاز کرنے والے پیٹر کو اپنی گھڑیوں کی فروخت کے لیے خود ہی بازار میں نکلنا پڑتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں آرڈر جلد ہی مل جاتے تھے، مگر 2008 کے مالی بحران کے بعد ان میں اچانک کمی آ گئی۔

Image caption گرونفیلڈ کا کہنا ہے کہ 2008 میں ہاتھ سے بنی ہوئی مہنگی گھڑی متعارف کرانا ایک برا فیصلہ تھا

ماضی پر نگاہ ڈالتے ہوئے پیٹر کہتے ہیں کہ ’خریدار پہلے معیار دیکھتے تھے اور پھر قیمت۔ لیکن اب یہ رحجان یکسر تبدیل ہو گیا ہے۔‘

فروخت بڑھانے کے لیے جگہ جگہ گھومنے پر مجبور سپیک مارین کے لیے حالات 2009 میں اس وقت مزید خراب ہو گئے جب لاس اینجلس میں ایک ڈاکے کے بعد ان کی بیش قیمت گھڑیاں چوری ہو گئیں۔

اس وقت انھیں احساس ہوا کہ اپنے کاوبار کو منافع بخش بنانے کے لیے سیلز کا ایک بالکل نیا طریقہ کار اپنانا ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہر چکر میں ایک مخصوص تعداد میں گھڑیاں بیچنے سے کاروبار ترقی نہیں کر پا رہا تھا۔‘

اس لیے سپیک مارین نے اپنی گھڑیان دکانوں اور تقسیم کاروں کے ذریعے بیچنا شروع کر دیں اور اس کام کے لیے ایک سرمایہ کار بھی ڈھونڈ لیا جس نے کمپنی کو نئے سرے سے استوار کیا۔

بہت سی دوسرے گھڑی ساز کمپنیوں کی طرح سپیک مارین بھی اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم وہ قیمتی گھڑیاں بنانے والی بڑی کمپنیوں کی طرح اپنی تشہیر کے لیے مشہور شخصیات کو استعمال نہیں کر سکتے۔

لیکن پھر 2013 میں قسمت نے سپیک مارین کا ساتھ دیا جب ایک فلم بنانے والی کمپنی نے ان سے رابطہ کیا۔

Image caption سرپنیوا اپنی گھڑیوں کے معیار پر کڑی نظر رکھتے ہیں

فلم ’سروائیور‘ میں ان کو مہنگی گھڑیاں بنانے والے ایک کردار کو کچھ مناظر کے لیے مشورے دینا تھے جسے مشہور زمانہ اداکار پیئرس بروسنن ادا کر رہے تھے۔

سپیک مارین فوراً رضامند ہو گئے اور اس فلم میں شمولیت کے بعد انھوں نے پیئرس بروسنن سے دوستی کر لی اور انھیں سپیک مارین گھڑیوں کی تشہیر کے لیے آمادہ کر لیا۔

آج ان کی کمپنی کی فروخت پھر سے مضبوط ہو گئی ہے، اور عملے کے دس ارکان ہر سال 800 سے زیادہ گھڑیاں بیچتے ہیں۔ گھڑیوں کی قیمتیں دو لاکھ 57 ہزار ڈالر تک ہیں۔

نیدرلینڈ کے بارٹ گرونفیلد کہتے ہیں کہ ایک مشکل آغاز کے بعداب ان کی فروخت بتدریج بڑھنا شروع ہونا ہو گئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 2008 میں ہاتھ سے بنی ہوئی مہنگی گھڑی متعارف کرانا ایک برا فیصلہ تھا۔

’آرڈر بہت مشکل سے آتے تھے لیکن ہمیں معلوم تھا کہ برانڈ قائم کرنے میں دس سال لگتے ہیں۔ ہماری پیداوار ہر سال بڑھ رہی ہے اور ہمارے آرڈر بک اگلے چھ ماہ کے لیے بک ہو چکے ہیں۔‘

اسی بارے میں