ہینگ اوور سے بچنے کا طریقہ: ’نشہ کم کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption نیدرلینڈ کے 826 طالبعلموں میں سے 54 فیصد نے الکوحل کے استعمال کے بعد اپنا ہینگ اوور دور کرنے کے لیے کچھ کھانے کو ترجیح دی

نیدرلینڈ کی ایک ریسرچ کے مطابق یہ تاثر غلط ہے کہ رات بھر کے نشے کے بعد صبح ٹھنڈے پانی کے کئی گلاس ایک ساتھ پینے سے نشے کے بعد سر کا درد یا ’ہینگ اوور‘ کم ہوجاتا ہے۔

بلکہ تحقیق یہ کہتی ہے کہ اس سر درد یا ہینگ اوور سے پچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ الکوحل کا استعمال کم کریں۔

تحقیق میں 800 سے زیادہ طالبعلموں سے پوچھا گیا وہ اپنے ہینگ اوور دور کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں، نتائج سے پتا چلا کہ اس کے لیے نہ کوئی غذا اور نہ ہی پانی کوئی مثبت اثر رکھتا ہے۔

تحقیق کی نتائج ایمسٹرڈیم میں ہونے والی ایک کانفرنس میں پیش کیے جارہے ہیں۔

نیدرلینڈ اور کینیڈا کے بین الاقوامی تحقیق کاروں کی ایک ٹیم نے طالبعلموں میں نشے کی عادت کا سروے کیا تاکہ یہ جانا جاسکے کہ، وہ نشے کے بعد سر کا درد دور کرنے کے لیے کیا کرتے یا پھر ان میں سے کچھ اس کو دور کرنے کی کوشش کے بجائے اس کے عادی ہوجاتے ہیں۔

نیدرلینڈ کے 826 طالبعلموں میں سے 54 فیصد نے الکوحل کے استعمال کے بعد اپنا ہینگ اوور دور کرنے کے لیے کچھ کھانے کو ترجیح دی، جس میں چکنائی سے بھرپور غذا اور بھاری ناشتہ شامل ہے۔

ان میں سے دو تہائی طالبعلموں نے ہینگ اوور سے بچنے کے لیے الکوحل پینے کے ساتھ پانی کا استعمال بھی جاری رکھا جبکہ آدھی سے زیادہ تعداد نے نشے کے بعد سونے سے پہلے پانی کا استعمال کیا۔

تاہم جب طالبعلموں کے اس گروپ کا ’پانی نہ استعمال کرنے والے گروپ‘ سے موازنہ کیا گیا تو ثابت ہوا کہ پانی پینے سے بہتری ضرور محسوس ہوتی ہے لیکن اس کے استعمال سے ہینگ اوور کی شدت میں کوئی کمی نہیں آتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption کینیڈا کے 789 طالبعلموں سے ان کے پچھلے ماہ کے نشے اور ہینگ اوور کے تجربے کےبارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ جن کو ہینگ اوور نہیں ہوا تھا انھوں نے واضح طور پر ’الکوحل کی بہت کم مقدار استعمال کی تھی‘

ایک گذشتہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ تقریباً 25 فیصد لوگوں کو نشہ کرنے کے بعد ہینگ اوور نہیں ہوتا۔

اس ہی سلسلے میں تحقیق دانوں نے کینیڈا کے 789 طالبعلموں سے ان کے پچھلے ماہ کے نشے اور ہینگ اوور کے تجربے کےبارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ جن کو ہینگ اوور نہیں ہوا تھا انھوں نے واضح طور پر ’الکوحل کی بہت کم مقدار استعمال کی تھی‘۔

وہ طالبعلم جنہوں نے بہت زیادہ نشہ کیا اور جن کے خون میں الکوحل کی مقدار کا تناسب 0.2 فیصد تھا، ان میں سے کسی میں بھی ہینگ اوور سے مدافعت موجود نہیں تھی۔

اوتریخت یونیورسٹی کے ڈاکٹر جورس ورسٹر جو اس تحقیق کی قیادت کر رہے ہیں کے مطابق یہ تعلق کافی حد تک براہ راست ہے۔

’آپ جتنا زیادہ نشہ کرتے ہیں، اتنا ہی آپ کو ہینگ اوور ہونے خطرہ ہوتاہے۔‘

ڈاکٹر ورسٹر کا کہناہے کہ اگلی بار وہ ہینگ اوور پر مزید کنٹرول ماحول میں تحقیق کریں گے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے ڈاکٹر مائیکل بلومفیلڈ کا کہنا ہے کہ ہر سال کئی بلین یورو نشے کی لت میں چلے جاتے ہیں۔

’اسی لیے اس آسان سے سوال کا جواب دینا بہت اہم ہے کہ ہینگ اوور سے کیسے بچا جاسکتاہے؟ اگرچہ اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، اس نئی تحقیق سے ہمیں ایک سادہ سا جواب تو ملتا ہے کہ نشہ کم کریں۔‘

یہ تحقیق یورپین کالج آف نیوروسائیکوفارماکولوجی کی کانفرنس میں پیش کی جاچکی ہے۔

اسی بارے میں