گوگل کا نیا لوگو متعارف کروا دیا گیا

Image caption گوگل کا کہنا ہے کہ اس کا نیا لوگو اور اس کی متعدد قسمیں مختلف سائز کی سکرینوں کے لیے موزوں ہیں

گوگل نے اپنی سرچ سروسز کے لیے نیا لوگو متعارف کروا دیا ہے، نئے لوگو میں گوگل کے رنگین حروف کی شکل میں تبدیلی کی گئی ہے۔

گوگل کا کہنا ہے یہ تبدیلی اس لیے ضروری تھی اب بہت سے لوگ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کے علاوہ موبائل فونز پر بھی اس کا استعمال کر رہے ہیں۔

یہ تبدیلی گوگل کی نئی کمپنی ایلفابیٹ کے زیرانتظام عمل میں لائی گئی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ نیا لوگو اور اس کی متعدد قسمیں مختلف سائز کی سکرینوں کے لیے موزوں ہیں اور صارفین کو اس قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جس کا انھیں اکثر پہلے ہوتا تھا۔

مکمل لوگو کے علاوہ گوگل چار نکتوں پر مشتمل نشان اوراس کے مخصوص نیلے، سرخ، پیلے اور سبز رنگوں پر مشتمل انگریزی زبان کے حرف G کو متعارف کرانے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔

گوگل نے اس تبدیلی کا اعلان اپنے بلاگ پر کیا ہے اور بتایا مختلف اینی میٹڈ تصاویر کے ذریعے نئی تبدیلیوں کے بارے میں بتایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نیا لوگو ’سادہ، واضح، رنگین، سہل‘ ہے اور گوگل کی بہترین انداز میں نمائندگی کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GOOGLE
Image caption سنہ 1988 میں گوگل کا لوگو اور سنہ 2013 میں متعارف کروایا جانے والا لوگو

بلاگ میں اس تبدیلی کے بارے میں مزید تفصیلات بھی موجود ہیں کہ اس تبدیلی کی ضرورت کیوں کر پیش آئی۔ ڈیزائنرز کے لیے ایک چیلنج یہ بھی تھا کہ کس طرح ’ہمیں گوگلی بننے‘ سے بچایا جائے۔

گوگل نے اس سے قبل اپنا لوگو ستمبر 2013 میں تبدیل کیا تھا۔

کریٹیکل ریویو ویب سائٹ پر مارک سنکلیئر لکھتے ہیں کہ یہ ایک نمایاں تبدیلی ہے کیونکہ اس سے قبل گوگل نے ایسا کرنے سے اجتناب کیا تھا جیسا دیگر ٹیک کمپنیاں اپنی آفیشل نشان اپ ڈیٹ کرتے وقت ’سادہ اور اکثر نرم‘ انداز اختیار کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنا ’جارحانہ برتاؤ‘ قائم رکھا ہے لیکن ان کی حالیہ تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب واقعی ’خود کو سمارٹ کر رہی ہے۔‘

اسی بارے میں