آرکٹک کے مستقبل پر سرد تعلقات

آرکٹک تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آرکٹک میں روس کی موجودگی کو امریکہ بڑی توجہ سے دیکھ رہا ہے

جب ایون پیٹر کی طرح آپ کو بھی پتہ چلے کہ آپ کے آباؤ اجداد 14,000 سال تک اسی زمین پر رہے، یہیں شکار کیا اور مچھلیاں پکڑییں تو اس کے متعلق چند صدیوں پہلے معرض وجود میں آنے والے ممالک کی تشویش بڑی معمولی سی بات لگتی ہے۔

لیکن آرکٹک میں روس اور امریکہ کی موجودگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

سوموار کو امریکی صدر براک اوباما نے الاسکا کے علاقے اینکوریج کا دورہ کیا تھا۔ وہ یہاں ’گلیشیئر‘ سے خطاب کرنے آئے تھے جو ’کانفرنس آن گلوبل لیڈرشپ ان دی آرکٹک: کوآپریشن، انویشن، انگیجمینٹ اینڈ ریزیلیئنس‘ کا مخفف ہے۔

اس کانفرنس کا محور ماحولیاتی تبدیلی تھی۔ ایون پیٹر بھی جن کا تعلق الاسکا کے علاقے گوچ سے تھا، سامعین میں موجود تھے۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’دی ورلڈ دس ویک اینڈ‘ کو بتایا کہ ’میں نے اپنی 40 سالہ چھوٹی زندگی میں ٹنڈرا کو خشک ہوتے، جنگلوں کی آگ کی تعداد میں اضافہ اور جھیلوں کو سوکھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘

’اس کے علاوہ زیر سطح زمین جو مستقلاً منجمد ہوتی ہے پگھل رہی ہے اور لغوی معنوں میں تقریباً ہمارے قدموں کے نیچے سے زمین تقریباً نکل رہی ہے اور گھر سمندروں اور دریاؤں میں گر رہے ہیں۔‘

کانفرنس کا ٹائٹل یا عنوان کافی امید دلانے والا لگتا ہے بلکہ کئی مبصرین تو اسے غیر حقیقت پسندانہ کہتے ہیں۔

Image caption الاسکا میں برف بڑی تیزی سے پگھل رہی ہے

اوسلو میں قائم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر پیول بیو کہتے ہیں کہ ’چاہے ماحولیاتی تبدیلی کتنی بھی اہم ہو، مجھے یقین نہیں کہ آرکٹک کے لیے یہ موضوع ضروری ہے بھی کہ نہیں۔‘

لیکن ایک حوالے سے آرکٹک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ماحولیاتی تبدیلی اس کی ذمہ دار بھی ہے۔

پگھلتی ہوئی برف پانی کو جہاز رانی کے قابل بناتی ہے۔ یہ اس بات کو بھی ممکنہ بناتی ہے کہ سمندر کے نیچے سے معدنیات نکالی جا سکیں۔

پیٹر نے کہا کہ ’سرحدی سوچ‘ اور ممالک کے درمیان بد اعتمادی سے بے قابو ترقی کو ہوا ملتی ہے۔

اگست کے آغاز میں روس نے آرکٹک کے دس لاکھ کلومیٹر علاقے پر اپنے دعوے کا عزم دہرایا ہے۔ کچھ سال پہلے روس نے یہیں سمندر میں اپنا جھنڈا لہرایا تھا۔

اگرچہ دوسرے آرکٹک ممالک جیسا کہ ڈنمارک اور کینیڈا اقوامِ متحدہ کے کنوینشن کے تحت اس کو چیلنج کر سکتے ہیں لیکن امریکہ ایسا نہیں کر سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر اوباما کانگریس سے اس پر دستخط کرانے میں ناکام رہے ہیں۔

صدر پیوتن اس علاقے میں اپنے ملک کی موجودگی زیادہ کر رہے ہیں اگرچہ دوسرے ممالک ایسا نہیں کر رہے۔

پروفیسر بیو کہتے ہیں کہ عسکریت پسندی روسی پالیسی کی اہم ترجیح ہے۔

’یقیناً آرکٹک کے ہمسائیوں کو اس کوشش پر کافی تشویش ہے۔ سال بہ سال روس آرکٹک میں اپنا فوجی پروفائل بڑھا رہا ہے۔‘

اسی بارے میں