ایسی شراب جس کا ایک گھونٹ ’گستاخ‘ بنا دے

Image caption مجھے فوراً اندازہ ہوگیا کہ اگر آپ نے اس کو ذیادہ مقدار میں پی لیا تو واقعی آپ اپنے والدین کے ساتھ گستاخیی کرنا چاہیں گے

جمیکا میں ایک شراب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اتنی اثر انگیز ہے کہ اس کو ’والدین کے ساتھ گستاخی‘ کہا جانے لگا۔

نک ڈیوس نےجب شراب کی اس قسم رم کے بارے میں سنا تو فیصلہ کیا کہ وہ کھوج لگائیں گے کہ آخر رم کے اس مخصوص نام کے پیچھے کیا کہانی ہے۔

کافی رات ہوچکی تھی، میں بہت تھکا ہوا تھا اور مجھے یقیناً سو جانا چاہیئے تھا، لیکن میں نے ایک بار پھر ٹی وی کھولا اور مختلف چینلز بدلنے لگا۔ اور پھر میرا اس پر اسرار کہانی سے واسطہ پڑا۔

ایک چینل پر کافی پرانا پروگرام برطانوی لہجے کی انگریزی وائس اوور کے ساتھ پیش کی جارہا تھا جس میں ریگے میوزک کے بارے میں بات کی جارہی تھی اور میرے مطلوبہ چینل کی تلاش وہیں ختم ہوگئی۔ میں بالکل جاگ چکا تھا۔

پروگرام میں بات کی جارہی تھی کہ جمیکا کے اندرون شہر کی برادری میں یہ موسیقی کس طرح پروان چڑھی اور شروع میں ریگی پارٹیاں کیسی ہوتی تھیں۔

پروگرام میں اس وقت کے بااثر گلوکاروں، شاعروں، اور پروڈیسروں میں سے ایک پرنس بسٹر کا انٹرویو بھی شامل تھا، جنھوں نےگھروں میں تیار کی جانے والی رم ’والدین کے ساتھ گستاخی‘ کا بھی ذکر کیا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ’جب پانی اس خاص قسم کی بیئر میں شامل کیا جاتا تو وہ بہت ہی اثر انگیز ہوجاتی اور گلاس سے دھواں اٹھنے لگتا۔‘

میں رم کا کافی حد تک شوقین ہوں اس لیے اس سے جڑا یہ دلچسپ راز جاننے کے بعد میری کھوج کا آغاز ہوگیا۔

مجھے یہ شراب ڈھونڈنی تھی، ابھی بہت سے گتھیاں سلجھانی تھیں۔

میں نے معلوم کیا کہ پرنس بسٹر اس وقت فلوریڈا میں فالج سے صحتیاب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے ان سے ملنا کچھ مشکل تھا۔

اب میری منزل اورنج سٹریٹ تھی جوجمیکا کا ’ٹن پان ایلے‘ کہلاتا ہے، جہاں موجود موسیقی کی دکانوں اور سٹوڈیوز نے ماضی میں یادگار اور مقبول دھنیں تخلیق کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جب پانی اس خاص قسم کی بیئر میں شامل کیا جاتا تو وہ بہت ہی اثر انگیز ہوجاتی اور گلاس سے دھواں اٹھنے لگتا

میں نے وہاں کچھ رہ جانے والی دکانوں کے مالکان سے اس شراب کے بارے میں پوچھا لیکن کوئی نئی بات معلوم نہ ہوسکی۔ ایک شخص نے مجھے بتایا کہ ’وہ ایک بہت ہی اثر انگیز رم تھی، مگر مجھے نہیں معلوم کہ اس میں کیا شامل تھا۔‘

اسی سڑک پر آگے جا کر میں نے کنگسٹن کے پرانے علاقے کے بیچوں بیچ جمیکا میں موسیقی کی دوسری بڑی صنعت ’رینڈیز ریکارڈ‘ کے پرانے مالک سے بات کی۔

انھوں نے مجھے بتایا: ’وہ ایک سفید رنگ کی رم تھی۔ بہت تیز اور پر اثر شراب۔ اس زمانےمیں لوگ اسے اپنے گھروں میں بنایا کرتے تھے جو باقی شرابوں کےمقابلے میں سستی پڑتی تھی۔‘

یہ سب جاننے کے بعد میں نے یہ اخذ کیا کہ وہ رم بہت تیز تھی، جو اس ملک میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی جہاں سب سے مشہور رم 126 پروف ہے۔ لیکن اس کو ’والدین کے ساتھ گستاخیی‘ کیوں کہا گیا؟

جمیکا وہ ملک ہے جہاں بچوں کو والدین کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنے پر سخت سزا ملتی ہے اور جہاں والدین کا بچوں پر اختیار انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

میری تلاش جاری رہی اور مجھے ماضی کے ایک اور مشہور سٹار ڈانس ہال میوزک کے ڈیلنگر سے ملوایا گیا۔ میں ان سے ایک چھوٹے سے بار میں ملا، جہاں پر ان کو وہاں موجود پرانے ڈی جے پروفیسر نٹس نے مائک دے کر گانے میں مشغول کردیا تھا۔

ایک بڑے ساؤنڈ سسٹم سے سنائی دینے والی موسیقی کی تال کے ساتھ ساتھ لوگ رم اور گانجا بھی پی رہے تھے۔

وقفے کے دوران ڈیلنگر نے مجھے اس رم کے بارے میں مزید بتانا شروع کیا لیکن ان کے جوابات میری توقعات کے مطابق ہی تھے۔

’وہ رم بہت ہی خطرناک تھی۔ آپ کو معلوم ہے کیوں؟ وہ ایسے کہ اگر کسی لڑکے نے اسے ذیادہ مقدار میں پی لیا تو ممکن ہے وہ اپنے باپ سے جھگڑنا چاہےگا اور اپنی ماں کے ساتھ ہم بستری کی خواہش کرے گا۔‘

لیکن اس دوران مجھے ایک اور شخص کے بارے میں پتا چلا جس نے مجھے ذیادہ معقول تفصیلات فراہم کیں۔

میں ایک تنگ گلی کے راستے متوسط آبادی کے ایک معمولی سے مکان تک گیا۔ یہ جمیکا کی پاپولر میوزک کے بانیوں میں زندہ رہ جانے والے ایک موسیقار کا گھر تھا۔

Image caption میں نے کنگسٹن کے پرانے علاقے کے بیچوں بیچ جمیکا میں موسیقی کی دوسری بڑی صنعت ’رینڈیز ریکارڈ‘ کے پرانے مالک سے بات کی

گھر کے دروازے پر تقریباً ایک گھنٹے کی چیخ و پکار کے بعد مجھے بنی ’سٹرائیکر‘ لی سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ لی اپنے زمانے کے مشہور ریکارڈ پروڈیوسر تھے۔

انھوں نے مجھے بٹھایا اور بتایا کہ اس زمانے میں پارٹیاں کرانے والوں میں سخت مقابلہ رہتا تھا اور مالکان کو جلد ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر وہ کلب میں لوگوں کو جلدی اکھٹا کرلیتے ہیں تو ممکن ہے کہ کچھ دیر بعد لوگ وہاں سے بور ہوکر دوسری پارٹی میں چلے جائیں۔

اس لیے دوسرے کلب کو ناکام اور بدنام کرنے کے لیے انھوں نے یہ طریقہ نکالا کہ پارٹی میں آنے والے لوگوں کو ایک انتہائی تیز قسم کی شراب پلادی جائے کہ جب وہ لوگ دوسرے شو میں جائیں تو اتنے نشے میں ہوں اور اتنے سرکش ہوں کہ وہ اپنے والدین سے بدتمیزی شروع کردیں۔

جمیکا میں اس کو ڈانس کا کچومر نکالنا اور پارٹی ناکام کرنا کہاجاتا تھا۔

اس کا ذائقہ کیسا تھا؟ سٹرائیکر نے مجھے بتایا کہ ’بالکل ایسا جیسے کسی نے آپ کے منہ میں آگ لگا دی ہو۔‘ لیکن میں بھی ہار ماننے والا نہیں تھا۔ مجھے مذید معلومات چاہیے تھیں۔

سٹرائیکر نے مجھ سے کہا کہ ’نواحی علاقوں میں جاؤ، لوگ اسے نواحی علاقوں کی بھٹیوں سے لاتے تھے، ۔خیال رہے کہ وہاں آپ اسے ’جمی جینگو‘ یا پھر ’جان کراؤن بیٹی‘ کہہ کر طلب کریں۔‘

مجھے یہاں اس رم کے دو مزید نام معلوم ہوئے۔

کچھ دنوں بعد میں جزیرے کی دوسری جانب ایک ہلنے والی کرسی پر سمندر کے کنارے ایک بار میں بیٹھا تھا۔ مجھے یہاں کے بارے میں ہی بتایا گیا تھا۔ ہاں! یہی وہ ہی جگہ تھی۔

یہاں مجھے ایک صاف محلول پیش کیاگیا جس کو دیکھ کر مجھے لگا کہ اس سے تو میں پینٹ کے داغ بھی صاف کرسکتا تھا۔

جیسے ہی میں نے وہ مشروب سونگھا، وہ میرے دماغ پر چڑھنا شروع ہوگیا۔

اس کی مہک ایسے تھی جیسے انتہائی میٹھے پھلوں کو ایک ساتھ محفوظ کردیا گیا ہو۔ اور جیسے ہی میں نے اس کی ایک چسکی لی، مجھے فوراً اندازہ ہوگیا کہ اگر آپ نے اس کو زیادہ مقدار میں پی لیا تو واقعی آپ اپنے والدین کے ساتھ گستاخی کرنا چاہیں گے۔

اسی بارے میں