سمارٹ فون کی ’لت‘ مرض کی صورت

بعض ایشیائی ممالک میں سمارٹ فون کی لت کو ایک بیماری کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGoh Wei Choon

،تصویر کا کیپشن

بعض ایشیائی ممالک میں سمارٹ فون کی لت کو ایک بیماری کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے

’نوموفوبیا‘ یعنی موبائل فون تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں آپ کو ہونے والی شدید پریشانی کے بارے میں تو سالہاسال سے بات ہو رہی ہے لیکن ماہرین کے مطابق ایشیا میں سمارٹ فون کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ایشیا جہاں ’سیلفی سٹک‘ اور ’ایموجی‘ کی ایجاد ہوئی ہے وہاں ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سمارٹ فون کے استعمال کی لت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کے عادی افراد میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔

جنوبی کوریا میں ایک حالیہ تحقیق میں 1000 طالب علموں کا سروے کیا گیا جس میں 72 فی صد بچے 11 یا 12 سال کی عمر میں اپنے ذاتی سمارٹ فون کے مالک ہیں، وہ اوسطاً 5.4 گھنٹے روزانہ موبائل فون پر صرف کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تقریباً 25 فی صد بچوں کو موبائل فون کا عادی قرار دیا گیا ہے۔

یہ تحقیق سنہ 2016 میں شائع کی جائےگی۔ اس میں یہ پتا چلا ہے کہ کسی بھی لت کی جانب بڑھنے یا اس کی عادت میں پڑنے کے لیے ذہنی دباؤ ایک اہم علامت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGoh Wei Choon

،تصویر کا کیپشن

جاپان میں کھانے سے پہلے، کھانا کھاتے ہوئے اور اس کے بعد سیلفی بنانا اور بھیجنا معمول بن گیا ہے

سمارٹ فونز بہت سے معاشروں میں مرکزی اہمیت کے حامل ہیں لیکن ایشیائی کلچرز میں یہ کئی طرح سے شامل ہیں۔ کسی بھی کھانے کے آغاز میں تصویر لینا یا ’فوڈ پورن‘ ایک طرح سے ضروری بن گیا ہے۔ جاپان میں یہ ایک ذیلی ثقافت کا حصہ ہے جسے انھوں نے اپنا ایک نام ’کیئی تائی‘ ثقافت دے دیا ہے۔

ایشیا اور اس کے 25 کروڑ سمارٹ فون صارفین کے ذریعے موبائل فون سے متعلق ’حادثاتی خبریں ‘ آتی رہتی ہیں۔ مثلا تائیوان کی خاتون سیاح کو اس وقت بچایا گیا جب وہ اپنے فون پر فیس بک استعمال کرتے ہوئے ایک کھائی میں گر گئیں، یا چین کے صوبے شیشوان میں خاتون کو آگ بھجانے والے اہلکاروں نے اس وقت بچایا جب وہ اپنے موبائل میں مگن نالے میں جاگریں۔

اس سے مزاحیہ شہ سرخیاں تو بنائی جا سکتی ہیں لیکن سنگاپور میں اس کے متعلق تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کہ زیادہ تر اس کا شکار کم عمر کے بچے ہیں۔ صرف 60 لاکھ کی آبادی کے ساتھ یہ دنیا میں سب سے زیادہ سمارٹ فون استعمال کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے اور یہاں ڈیجیٹل کی لت جیسے امراض کے ماہرین بھی ہیں۔ یہاں سائبر فلاح و بہبود کی کلینک بھی ہے اور ڈیجیٹل لت کو باضابطہ طور پر مرض تسلیم کیے جانے کی مہم بھی جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

ماہرین کے مطابق سمارٹ فون کی لت کے شکار زیادہ تر بچے ہیں

سنگاپور میں ٹچ سائبر ویلنیس سینٹر کے مینیجر چونگ ایی جے نے کہا ہے کہ ’نوجوانوں میں اس سطح کی پختگی نہیں ہے کہ وہ سمارٹ فون کو اچھی طرح استعمال کر سکیں کیونکہ انھیں تو خود پر بھی قابو نہیں رہتا۔‘

وہ اس بارے میں شدید خدشات کا شکار ہیں کہ موبائل فون ملنے کے بعد بچوں کے برتاؤ میں کیسی تبدیلی آتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہاں بہت سارے لڑکوں کو سمارٹ فون آسانی سے دستیاب ہیں کیونکہ وہ ان کے سکول کے نصاب کا حصہ ہے۔ سنگاپور میں بچوں کو واٹس ایپ کے ذریعےگھر پر اسائنمنٹ کرنے کے لیے دینا غیر معمولی بات نہیں ہے۔‘

جنوبی کوریا میں19 سالہ طالبہ ایما یون (ان کا اصلی نام نہیں ہے) کا اپریل سنہ 2013 سے نوموفوبیا کا علاج کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا: ’میرا فون میری دنیا بن گیا۔یہ میری ذات کا اضافی حصہ بن گیا ہے۔

’اگر میرے ذہن میں یہ خیال آجائے کہ میرا موبائل فون گم ہوگیا ہے تو میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا مجھے پسینہ آنے لگتا۔ اس لیے میں کبھی بھی اس کے بغیر کہیں باہر نہیں گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن

نوجوانوں میں سمارٹ فون کے گم ہونے کے خیال سے ہی گھبراہٹ ہونا اس کی لت کی ایک علامت ہے

یون کے والدین کا کہنا ہے کہ سمارٹ فون کے زیادہ استعمال سے ان کی بیٹی کے رویوں میں دوسرے قسم کے مسائل بڑھنے لگے۔وہ سکول کی سرگرمیوں اور اپنے پسندیدہ مشاغل سے پیچھے ہٹنے لگی۔

بہت سے لوگ متفکر ہو جاتے ہیں جب انھیں ان کی جیب ہلکی محسوس ہو لیکن یہاں اصل بات یہ ہے کہ فون دیگر مسائل اور پریشانیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ جنوبی کوریا میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو لوگ سمارٹ فون کو سماجی رابطوں کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ اس لت کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

اس آلے کو وسیع انسانی رابطوں میں کلیدی حیثیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کمزور بچے اور نوجوان اس کے بغیر بے چین ہو سکتے ہیں اور کسی سے رابطہ ہی نہیں کرسکتے۔ ایشیا کے چند معاشروں میں جہاں طلبہ کو گھر پر ملنے والے مشکل اور طویل ہوم ورک خود سے کرنے کے لیے مل جائیں تو ایسے میں دوستوں سے رابطے کے لیے فون ہی واحد ذریعے ہوتا ہے جہاں وہ ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں اور اپنی باتیں شیئر کرتے ہیں۔ اس لیے فون کو ایک غیر متناسب اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

بہت سے سیاسی رہنما بھی سیلفی لینے میں پیش پیش نظر آتے ہیں

کیا آپ سمارٹ فون کی لت کا شکار ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چند ابتدائی علامات ہیں:

  • بغیر کسی وجہ کے مسلسل فون کو دیکھنا۔
  • فون کے بغیر ہونے کے خیال سے پریشان یا بےچینی محسوس کرنا
  • فون پر وقت گزارنے کو سماجی تعلقات پر فوقیت دینا
  • بیچ رات میں اپنے سمارٹ فون چیک کرنے کے لیے جاگنا
  • فون پر زیادہ وقت گزارنے کے نتیجے میں تعلیم یا کام کی کارکردگی میں کمی آنا
  • آسانی سے ای میلز یا سمارٹ ایپس سے متاثر ہوجانا

متعدد ممالک نے سمارٹ فون کے استعمال پر ضابطے نافذ کرنا شروع کردیا ہے۔

جنوبی کوریا میں نوجوانوں میں سمارٹ فون کے استعمال پر نظر رکھنے کے لیے متنازع سرکاری ایپلیکیشن کے بعد شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ حکام نے سنہ 2011 میں متعدد احکامات نافذ کیے ہیں جن میں رات بارہ بجے کے بعد آن لائن گیمز تک بچوں کی رسائی پر پابندی لگائی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن

نوجوان عام طور پر سمارٹ فون کی وجہ سے دوسری اہم چیزوں سے دور ہوتے جاتے ہیں

چین ان پہلے چند ممالک میں شامل ہے جہاں انٹرنیٹ کی لت کو طبی مرض قرار دیا گیا ہے اور نئے میڈیا کی لت کو ختم کرنے کے لیے فوجی طرز کے کلینک قائم کیے گئے ہیں۔

کنسلٹینٹ ماہر نفسیات تھامس لی کا خیال ہے کہ ایشیا میں دیگر ممالک کو بھی اسے اپنانا چاہیے اور سمارٹ فون کے استعمال کی لت کو ’ سرکاری طور پر ذہنی بیماری‘ قرار دینا چاہیے جیسے سیکس اور جوئے کی لت کو مرض قرار دیا گیا ہے۔

لی کا کہنا ہے کہ ’کسی کے موڈ کے فائدہ کے لیے سمارٹ فون کا استعمال ایسا ہی ہے جیسے کہ انسان کے برتاؤ پر منشیات

’منشیات کے عادی افراد کی طرح سمارٹ فون کے عادی افراد میں بھی بے چینی، پریشانی اور یہاں تک کہ غصہ کی علامات بھی پائی جاتی ہیں۔‘

لیکن اس کے خلاف ایک مضبوط جوابی دلیل یہ ہے کہ اسے بہت بڑھا چڑھا کے پیش کیا گیا ہے اور یہ جدید معاشرے میں اپنے بارے میں زیادہ سوچنے کے رجحان کا حصہ ہے۔ سنگاپور کے کلینکل ماہر نفسیات پروفیسر مارلین لی کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی سے منسلک بیماری کوئي نئی بات نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن

سمارٹ فون میں مگن افراد کا کسی سے ٹکرا جانا، کہیں گر جانا وغیرہ عام بات ہے

ان کا کہنا ہے کہ ’ تحقیق ابھی ابتدائی دور میں ہے اس لیے اس وقت اس کے متعلق بہت سے سوالات کے جوابات ملنا باقی ہیں۔ ٹیکنالوجی عادیوں میں بھی وہی باتیں پائی جاتی ہیں جو ديگر چیزوں کے عادیوں میں پائی جاتی ہیں، بس ان کے ’چہرے‘ نئے ہیں۔‘

ان کی اس دلیل کو آڈرین وینگ کی حمایت حاصل ہے۔ وہ اس سماجی مسئلف کو طبی مسئلے کے طور پر دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اسے وسیع سماجی مسائل کا حصہ تسلیم کرتے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہیں کہ ایشیا میں سمارٹ فون سے متعلق اور بھی ایجادات ہوں گی اور یہ سیلفی سٹک اور ایموجی کی طرح مقبول ہوں گی۔ اس متنوع اور وسیع برے اعظم کے ماہرین نفسیات اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ جو بھی نتیجہ آئے گا وہ مثبت اور نیا ہوگا یہ صرف تشویشناک نہیں ہوگا۔