سانپ کے کاٹے کے علاج کی اہم دوا کے ختم ہونے پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دنیا میں ہر سال تقریبا 50 لاکھ لوگوں کو سانپ کاٹ لیتے ہیں جس میں سے ایک لاکھ کی موت ہو جاتی ہے

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں سانپ کے کاٹے کی سب سے موثر دواؤں میں سے ایک ختم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

میڈیسن سینس فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) کا کہنا ہے کہ ’فیو افریق‘ نامی دوا کی جنوبی افریقی ممالک میں شدید کمی ہے۔ خیال رہے کہ اس دوا سے دس اقسام کے سانپوں کے کاٹے کا علاج کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس دوا کی آخری خوراک آئندہ سال جون سنہ 2016 میں ختم ہو جائے گی جبکہ اس کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے۔

اس دوا کو بنانے والی کمپنی سینوفی پیسچر کا کہنا ہے کہ قیمت کی وجہ سے یہ دوا بازار سے ہٹا لی گئی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ اس دوا کے متبادل موجود ہیں لیکن ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ ’وہ اتنی مؤثر نہیں ہیں۔‘

تنظیم کا کہنا ہے کہ ’فیو افریق‘ ہی زہر کے خلاف واحد تریاق ہے جو موثر اور محفوظ ہے اور پورے جنوبی افریقی ممالک میں دس قسم کے سانپوں کے ڈسے میں استعمال ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Gerald Buff CorsiVisuals Unlimited Inc.
Image caption ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ دنیا میں سانپ کے زہر کو کاٹنے والی ایک انتہائی موثر دوا ختم ہو رہی ہے

سینوفی کا کہنا ہے کہ وہ زہر کے خلاف کام کرنے والی اس دوا کا نسخہ دوسروں کے ساتھ مشترک کرنے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ اس کمپنی نے گذشتہ سال زہر کو کاٹنے والی اس دوا کو تیار کرنا بند کر دیا اور اس کی جگہ ریبیز (پاگل کتے، لومڑی یا چمگادڑ کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی بیماری) کے علاج کی دوا بنانے لگی۔

اطلاعات کے مطابق سینوفی اپنی دوا ’فیو افریق‘ کو بنانے کے لیے کسی دوسری کمپنی سے بات چیت کر رہی ہے لیکن یہ معاملہ آئندہ سال کے اواخر تک طے ہوتا نظر نہیں آتا۔

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی جگہ دوسری دوا اس کے دوسال بعد تک آنے سے رہی۔

تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس محفوظ اور موثر دوا کی عدم موجودگی کا مطلب بے شمار اموات ہوں گی۔

ایم ایس ایف کی پولی مرکینڈیا نے کہا: ’زیادہ تر لوگ جنھیں سانپ کاٹتا ہے وہ یہ نہیں جانتے کہ کس قسم کے سانپ نے انھیں کاٹا ہے اس لیے زہر کو کاٹنے والی ایسی دوا جو مختلف اقسام کے زہر کو کاٹ سکے اہمیت کی حامل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ SML
Image caption زیادہ تر لوگوں کو یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ انھیں کس قسم کے سانپ نے کاٹا تھا

انھوں نے کہا: ’ہمیں یہ فکر لاحق ہے کہ اس زہر کو کاٹنے والی دوا کی عدم موجودگی کی وجہ سے بلاوجہ لوگ مریں گے۔‘

سینوفی کمپنی کے ترجمان الین برنل نے کہا کہ کمپنی نے زہر کی کاٹ کی ٹکنالوجی کو دوسری کمپنی کو دینے کی پیشکش کی ہے تاہم ’ابھی تک بات نہیں بنی ہے۔‘

عالمی صحت کی تنظیم ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ سانپ کا کاٹنا ایک نظر انداز مسئلہ ہے اور اس جانب توجہ دینے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق ہر سال تقریباً 50 لاکھ افراد کو سانپ کاٹ لیتے ہیں جس میں سے ایک لاکھ مر جاتے ہیں جبکہ چار لاکھ ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو جاتے ہیں۔

صرف جنوبی افریقی ممالک میں 30 ہزار افراد سانپ کے کاٹنے سے ہر سال مرجاتے ہیں جبکہ تقریباً آٹھ ہزار کے اعضا کو کاٹنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں