دنیا میں سب سے زیادہ نمی والی جگہ کون سی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption مقامی لوگ ’چیرا پونجي‘ کو سوہرا کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ دنیا کی دوسری سب سے نمی والی جگہ ہے

دنیا میں سب سے زیادہ نمی والی جگہ کون سی ہے؟

کچھ لوگ اس کے جواب میں ’مارینہ ٹرینچ‘ کا نام لے سکتے ہیں جو سمندر میں سب سے گہری جگہ ہے اور جس کے اوپر تقریباً10 ہزار میٹر پانی موجود ہے۔ لیکن اگر کرہ ارض پر سب سے زیادہ نمی والی(گیلی) جگہ کی بات ہو تو اس کا جواب اتنا آسان نہیں ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ نمی یا گیلی جگہ کے طور پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھارت کے میگھالیہ میں ’ماسن رام‘کا نام درج ہے۔

خلیج بنگال کی وجہ سے یہ بہت زیادہ نمی والی جگہ ہے جو 1491 میٹر کی اونچائی میں پہاڑی علاقہ ہے۔یہاں اوسطاً سالانہ بارش 871 11 ملی میٹر ہوتی ہے

یہ علاقہ بہت سبز و شاداب بھی ہے جہاں سحر انگیز وادیاں ہیں اور اس سے گرنے والے آبشاروں کے نیچے پر کشش پہاڑی غاروں کا سلسلہ ہے۔

اس سے محض 10 میل کے فاصلے پر ہی مشرق میں معروف ’چيرا پونجی‘ ہے۔

سوہرا میں ریکارڈ ساز بارش

Image caption دنیا میں سب سے زیادہ نمی یا گیلی جگہ کے طور پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھارت کے میگھالیہ میں ’ماسن رام‘کا نام درج ہے

مقامی لوگ ’چیرا پونجي‘ کو سوہرا کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ دنیا کی دوسری سب سے نمی والی جگہ ہے۔

یہاں ’ماسن رام‘ سے اوسطاً 100 ملی میٹر کم بارش ہوتی ہے۔ حالانکہ کئی بار ( کچھ ماہ اور سالوں کے دوران ) یہ دنیا کاسب سے نمی والا مقام بھی بن جاتا ہے۔

جولائی سنہ 1861 میں یہاں نو ہزار تین سو ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ گذشتہ اگست سے اب تک چیرا پونجي میں 26 ہزار چار سو 70 ملی میٹر کی ریکارڈ بارش درج ہو چکی ہے۔

عالمی سطح پر سب سے زیادہ بارش والے یہ دونوں مقام میگھالیہ میں موجود ہیں۔ یہ پورا علاقہ ہمیشہ بادلوں سے گھرا رہتا ہے۔

یہاں لوگ مقامی طور پر تیار کردہ چھتری، جنہیں كنوپ کہتے ہیں، ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں تاکہ جسم کو بارش سے محفوظ رکھ سکیں اور وہ بارش کے دوران بھی مسلسل کام کرتے رہیں۔

ان کا زیادہ تر وقت وہاں بارش سے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی مرمت اور نئی سڑکیں تیار کرنے میں صرف ہوتا ہے۔

مشکل زندگی

Image caption درختوں کی جڑوں اور لچکدار تنوں کے درمیان بانس رکھ کر بھی پل بنائے جاتے ہیں

مسلسل ہونے والی شدید بارشوں کے سبب اس علاقے میں کاشت کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ایسے میں لوگ ڈرائر سے سكھائی گئی اشیاء کو ترپال میں لپیٹ کر بازاروں میں فروخت کے لیے لے جاتے ہیں۔

اس علاقے میں تعمیر شدہ پلوں کو محفوظ رکھنے میں بھی کافی مشکلیں پیش آتی ہیں جہاں استعمال کیا گیا روایتی ساز وسامان جلد ہی گل سڑ جاتا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے لوگ درختوں کی جڑوں کو آپس میں باندھ کر پل بنانے ہیں۔

بھارت میں ربڑ کے درخت کافی مضبوط ہوتے ہیں اور ان کی جڑیں کافی لچکدار بھی ہوتی ہیں۔ اس کے ذریعے مقامی لوگ دریا اور نالوں کو پار کر جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بانس کے پل بھی تعمیر کیے جاتے ہیں۔

درختوں کی جڑوں اور لچکدار تنوں کے درمیان بانس رکھ کر بھی پل بنائے جاتے ہیں۔ بعد میں بانس گل جانے پر بھی یہ پل قائم رہتے ہیں۔ اس طرح سے ایک پل کو تیار ہونے میں 10 برس تک کا وقت لگ جاتا ہے۔

لیکن اس طرح کے پل سینکڑوں برس تک چلتے بھی ہیں۔اس علاقےمیں ایسا ایک پل تو پانچ سو برس کی عمر کا بتایا جاتا ہے۔

پہاڑیوں کے درمیان آباد یہ علاقہ تاریخی طور پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ بارش کے لیے جانا جاتا ہے۔ لیکن گذشتہ کچھ وقت سے یہ کہا جا رہا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ نمی والا علاقہ کہیں اور بھی ہو سکتا ہے۔

کولمبیا کا چیلنج

Image caption ماسن رام کی ریکارڈ بارش میں سے 90 فیصد بارش محض چھ ماہ کے اندر اندر ہو جاتی ہے

میگھالیہ کے ان دو مقامات کو کولمبیا کی دو جگہوں سے چیلنج مل رہا ہے لیکن تکنیکی سطح پر ان کا بھارت کے دونوں مقامات سے موازنہ نہیں ہو سکتا۔

شمال مغربی کولمبیا کے شہر ’لائی ورو‘ میں سنہ 1952 سے1954 کے درمیان سالانہ بارش 13 ہزار چار سو 73 ملی میٹر درج کی گئی تھی۔ یہ ماسن رام میں ہونے والی اوسط بارش سے زیادہ ہے۔

لیکن اس وقت بارش کی پیمائش کے لیے استعمال میں ہونے والے پیمانے اب درست نہیں مانے جاتے ہیں۔

موسمیات کے معروف مؤرخ کرسٹوفر سی برٹ کے مطابق کولمبیا کا ’پیورٹو لوپاج‘ دنیا میں سب سے زیادہ نمی والا مقام ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اصل میں دنیا میں سب سے زیادہ نمی والی جگہ کولمبیا میں پیورٹو لوپاج ہے جہاں اوسطاً 892 ء12 ملی میٹربارش ہوتی ہے۔‘

برٹ کے مطابق گذشتہ 50 برسوں سے یہاں کی بارش کی پیمائش کی جاتی ہے لیکن درمیان کے بعض ماہ و سال کے اعداد و شمارغائب ہیں۔

اس طرح سے پیورٹو لوپاج میں ہونے والی بارش کے اعداد و شمار پوری طرح مکمل نہیں ہیں۔ اس لیے گذشتہ 30 برسوں سےجن مقامات کے اعداد و شمار تیار کیے گئے ہیں ان سے ان کا موازنہ نہیں ہو سکتا ہے۔

برٹ کہتے ہیں’جتنے وقت کے اعداد و شمار موجود ہیں اور جتنے وقت کے پورے سال بھر کے اعداد و شمار موجود ہیں اس کی بنیاد پر ہی میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ پیورٹو لوپاج میں عام طور پر ماسن رام سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔‘

کولمبیا کے شہر میں سال بھر بارش ہوتی رہتی ہے کیونکہ یہ اینڈیز پہاڑی سلسلوں میں بسا ہوا ہے۔

کیوں ہوتی ہے اتنی بارش؟

تصویر کے کاپی رائٹ Christian Werthenbach Alamy
Image caption کولمبیا کے شہر میں سال بھر بارش ہوتی رہتی ہے کیونکہ یہ اینڈیز پہاڑی سلسلوں میں بسا ہوا ہے

برٹ کہتے ہیں ’بحر اوقیانوس کی طرف سے یہاں مسلسل نمی کادباؤ رہتا ہے اور اس دباؤ کو پہاڑیاں روکتی ہیں جس کی وجہ سے پیورٹو لوپاج میں کافی زیادہ بارش ہوتی ہے۔ مجھے لگتاہے کہ اوسطاً یہاں سال میں 320 سے زیادہ دنوں کی بارش ہوتی ہے۔ یہاں سال در سال یکساں طور بارش ہوتی رہتی ہے۔‘

ایسے میں ایک بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ اوسط بارش اور زیادہ سے زیادہ بارش میں فرق ہوتا ہے۔

محض دو روز کے اندر بھارت میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈکی گئی تھی۔سنہ 2014 کے موسم گرما میں عالمی موسمیاتی تنظیم نے اعداد و شمار کے ساتھ بتایا تھا کہ چیرا پونجي میں15 اور 16 جون سنہ 1995 کو 2493 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔

ماسن رام کی ریکارڈ بارش میں سے 90 فیصد بارش محض چھ ماہ کے اندر اندر ہو جاتی ہے۔ یعنی مئی سے اکتوبر کےدرمیان۔ یہاں جولائی میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ اس ماہ میں یہاں اوسطا 3500 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

دسمبر سے فروری کے درمیان یہاں بہت کم بارش ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ دنیا کا سب سے زیادہ نمی اور بارش والا علاقہ ہے لیکن یہاں کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں