’آلودہ آلاتِ جراحی کے استعمال سے ایلزہائمر کا خدشہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ایلزہائمر ڈیمنشیا (بھولنے کی بیماری) کی ایک قسم ہے جو بڑھتی عمر کے افراد میں عام ہے

محققین کا کہنا ہے کہ آلودہ آلاتِ جراحی کے مریضوں پر استعمال سے ان کے ایلزہائمر میں مبتلا ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

سائنسی رسالے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ایسے آلات کے علاوہ انسانی بڑھوتری کے ہارمونز کے انجکشنز سے بھی اس بیماری میں مبتلا ہونے کا کم مگر ممکنہ خطرہ موجود ہے۔

محققین نے یہ دعویٰ ایسے آٹھ مردہ مریضوں کے دماغوں کے تجزیے کے بعد کیا ہے جو ایلزہائمر میں مبتلا تھے۔

برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ ان کا یہ دعویٰ فی الحال حتمی نہیں ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایلزہائمر ایک چھوت کی بیماری ہے اور لوگ اس بیماری میں مبتلا افراد سے تعلق رکھنے پر اس بیماری میں مبتلا نہیں ہو سکتے۔

ایلزہائمر ڈیمنشیا (بھولنے کی بیماری) کی ایک قسم ہے جو بڑھتی عمر کے افراد میں عام ہے۔ ایسے افراد جن کے خاندان میں اس بیماری کے مریض موجود ہوں ان کے بھی اس میں مبتلا ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

اس بیماری میں مریض کے دماغ کے خلیے وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں اور دماغ سکڑ جاتا ہے جس سے اس کے کئی افعال متاثر ہوتے ہیں۔

سائنسدان اس بیماری کے اثرات کا جائزہ خوردبینی جائزے سے بھی لے سکتے ہیں۔

ایلزہائمر کی دو بڑی نشانیاں دماغ میں ایمیلوائڈ پلاک نامی پروٹین کے گچھوں اور ایک اور دیگر پروٹین تاؤ کی موجودگی ہوتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ صاف آلاتِ جراحی کے استعمال کو یقینی بناتے ہیں

یونیورسٹی کالج لندن کے ڈاکٹر جان کولنج اور ان کی ٹیم جب ’سی جے ڈی‘ نامی دماغی بیماری کا شکار افراد کے دماغوں پر تحقیق کر رہے تھے تو انھیں ان میں سے ایک نشانی دکھائی دی۔

انھیں آٹھ میں سے سات مریضوں کے دماغوں میں ایمیلوائڈ کی نشانیاں ملیں جبکہ ان افراد کی عمر 31 سے 51 برس کے درمیان ہی تھی اور ان کے خاندان میں بھی کسی کو ایلزہائمر کی بیماری نہیں تھی۔

ان تمام افراد کو سی جے ڈی نامی بیماری ہارمونز کے ان انجکشنز کی وجہ سے ہوئی تھی جو انھیں بچپن میں دیے گئے تھے۔

ڈاکٹر جان کولنج کے خیال میں ایمیلوائڈ بھی ایسے ہی طبی اور جراحی عمل کے دوران حادثاتی طور پر مریضوں میں پھیلے جیسے کے وہ سی جے ڈی سے متاثر ہوئے تھے لیکن اس بات کا ثبوت نہیں مل سکا کہ ہارمون انجکشن ہی ایمیلوائڈ کی وجہ بھی تھے۔

ڈاکٹر کولنج کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید تحقیق ضروری ہے اور انھوں نے محکمۂ صحت سے رابطہ کر کے دریافت کیا ہے کہ آیا ان کے پاس انسانی بڑھوتری کے ہارمون کا پرانا سٹاک موجود ہے کہ نہیں تاکہ وہ اس میں ایمیلوائڈ کی موجودگی کی تصدیق کر سکیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ پریشان ہونے کی بات نہیں۔ کسی بھی فرد کو اس تحقیق کی وجہ سے اپنے آپریشن کو موخر یا منسوخ نہیں کرنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں