’ایچ پی میں 25 سے 30 ہزار ملازمین کی چھانٹی‘

Image caption کمپنی کا کہنا ہے کہ نوکریوں میں کٹوتی سے 2 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سالانہ بچت ممکن ہوسکے گی

دنیا میں پرسنل کمپیوٹر بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہیولٹ پیکارڈ کا کہنا ہے کہ وہ 25 کی 30 ہزار ملازمین کی نوکریاں ختم کر رہی ہے۔

یہ اعلان بھی ان ہی اقدامات کا حصہ ہیں جس کے تحت رواں سال نومبر میں ایچ پی کمپنی دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہیولٹ پیکارڈ یعنی ایچ پی انٹرپرائز کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسی وجہ سے کمپنی کو پرسنل کمپیوٹر اور پرنٹر کے کاروبار میں تقسیم کر دیا جائے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ نوکریوں میں کٹوتی سے 2 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سالانہ بچت ممکن ہوسکے گی۔ تاہم اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے بھی کمپنی کو 2 ارب 70 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے۔

ہیولٹ پیکارڈ کی چیئر پرسن اور چیف ایگزیکٹو میگ وِہٹمین نے وال سٹریٹ کے تجزیہ کاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم گذشتہ کئی سالوں سے اخراجات کم کرنے اور کام کے طریقہ کار کو آسان بنانے پر غو کر رہے ہیں۔ اور ان آخری اقدامات کے بعد مستقبل میں ادارے کی مزید تنٌظیم نو کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

وقت کے ساتھ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کا مطالبہ کم ہونے کے باعث ایچ پی کوگذشتہ دہائی سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سنہ 2012 سے ایچ پی کمپنی نے تنظیم نو شروع کی اور ادارہ پہلے ہی 55 ہزار ملازمین کو برخاست کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

اسی بارے میں