آسٹریلوی سائنسدان کا تحقیقی مواد میں جعلسازی کا اعتراف

لیبارٹری تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption جعلسازی کے ذریعے حاصل شدہ نتائج بلڈ پریشر کی مشہور دوا ریمیپرِل سے متعلق تھے

ایک اعلیٰ آسٹریلوی سائنسدان نے فشارِخون یا بلڈ پریشر کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا کی آزمائش کے دوران مریضوں سے متعلق ڈیٹا یا معلومات میں جعلسازی کا اعتراف کیا ہے۔

اس انکشاف کے بعد ریمیپرِل نامی دوا کے بارے میں بین الاقوامی جرائد میں شائع ہونے والے دو مضامین حذف کر دیے گئے ہیں۔ یہ مضامین مریضوں پر ریمیپرِل کی تین سال تک کی جانے والی آزمائش کے بارے میں تھے۔

میلبورن کے معتبر ادارے ’بیکر آئی ڈی آئی ہارٹ اینڈ ڈایابیٹیس‘ کا کہنا ہے کہ مذکورہ سائنسدان ڈاکٹر اینا اہیماسٹوس نے استعفٰی دے دیا ہے۔

2013 میں پہلی بار شائع ہونے والی معلومات کے مطابق مذکورہ دوا شریانوں کی ایک عام بیماری میں مبتلا مریضوں کو درد سے نجات دلانے میں کارگر ثابت ہوئی تھی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اینا اہیماسٹوس کی نگرانی میں جمع کی گئیں دیگر معلومات کا بھی پھر سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ادارے سے وابستہ پروفیسر برونوِن کِنگویل کا، جنہوں نے دوا سے متعلق مضامین کو حذف کروایا تھا، کہنا ہے کہ دوا کی آزمائش کے دوران بے قاعدگیوں کا پتہ ادارے کے اندر ہی چل گیا تھا جس کے بعد اس برس جون میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا تھا۔

انھوں نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریش سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈاکٹر اینا اہیماسٹوس نے بعض مریضوں سے متعلق معلومات میں جعلسازی کا اعتراف کیا ہے۔‘

پروفیسر کِنگویل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آزمائش میں حصہ لینے والے افراد کو کسی بھی مرحلے پر کسی نوعیت کے نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ہی محقِق سے متعلق اپنی نوعیت کا واحد واقعہ تھا۔‘

ان کے بقول ’ادارہ ایسے معاملات کے بارے میں انتہائی سنجیدگی سے کام لیتا ہے اور اس نے مذکورہ واقعہ سے متعلق معلومات کو درست کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے ہیں تاکہ اس اعلیٰ تحقیقی ادارے کی ساکھ اور ذمہ داری قائم رکھی جا سکے۔‘

ریمیپرِل کا استعمال عام طور پر فشارِ خون یا ہائی بلڈ پریشر اور دل کی ایک خاص کیفیت کے علاج کے لیے کیا جاتا ہے۔