افریقہ میں ملیریا کے مریضوں میں پچاس فیصد کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دنیا بھر میں ملیریا سے ہونے والی اموات میں 60 فیصد کمی آئی ہے

سنہ 2000 سے جاری کوششوں کے نتیجے میں افریقہ میں 70 کروڑ مرتبہ لوگوں کو ملیریا ہونے سے بچایا جا چکا ہے۔

مشہور جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران بحیثیت مجموعی براعظم افریقہ میں ملیریا کے مریضوں میں 50 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ملیریا کے مریضوں میں اتنی زیادہ کمی کی سب سے بڑی وجہ افریقہ میں مچھر دانیوں کے استعمال میں اضافہ ہے۔

جریدے نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ مختلف تنظیموں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ افریقہ میں ملیریا پر قابو پانے کے لیے عالمی اداروں کی جانب سے جو مالی امداد دی جا رہی ہے اسے بند نہ کیا جائے تا کہ گذشتہ برسوں میں ہونے والی کامیابی ضائع نہ ہو جائے۔

دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت اور اقوام متحدہ کے خیراتی ادارے ’یونیسیف‘ نے کہا ہے کہ سنہ 2000 سے اب تک دنیا بھر میں ملیریا سے ہونے والی اموات میں 60 فیصد کمی آئی ہے اور اس دوران 60 لاکھ سے زیادہ افراد کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2000 میں جن 13 ممالک میں ملیریا پایا جاتا تھا وہاں سے سنہ 2014 میں ملیریا کی کوئی اطلاع نہیں آئی جبکہ دیگر چھ ممالک ایسے ہیں جہاں ملیریا کے دس سے بھی کم مریض دیکھنے میں آئے۔

دنیا بھر میں ملیریا میں کمی ایک طرف، تاہم اب بھی عالمی اعداد و شمار کے مطابق ملیریا کے منظرعام پر آنے والے مریضوں میں سے 80 فیصد کا تعلق افریقہ سے ہے اور ملیریا سے ہونے والی اموات میں سے 78 فیصد بھی اسی براعظم میں ہو رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ملیریا میں کمی کی سب سے بڑی وجہ افریقہ میں مچھر دانیوں کے استعمال میں اضافہ ہے

عالمی ادارۂ صحت کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ماگریٹ کلین کہتی ہیں کہ ’ گذشتہ 15 برسوں میں صحت عامہ کے شعبے میں جو کامیابیاں دیکھنے میں آئی ہیں ان میں سے گلوبل ملیریا کنٹرول نامی مہم ایک بڑی کامیابی ہے۔‘

’اس مہم کی کامیابی سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری حکمت عملی کام کر رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قدیم مہلک مرض جو ہر سال ہزارہا لوگوں، خاص طور پر بچوں کی جان لے لیتا ہے، ہم اس پر قابو پا سکتے ہیں۔‘

رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے یونیسیف کے ڈائریکٹر انتھونی لیک کا کہنا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہم ملیریا سے کیسے بچ سکتے ہیں اور اس کا علاج کیسے کر سکتے ہیں۔ چونکہ ہمیں یہ معلوم ہے اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ایسے اقدامات لیں جن سے اس مرض پر مکمل قابو پایا جا سکے۔‘

اسی بارے میں