ایپل سمارٹ فونز کے پیٹنٹ کی اپیل جیت گیا

سامسنگ
Image caption ایپل اور سامسنگ کے درمیان پیٹنٹ پر کئی عدالتی جنگیں ہو چکی ہیں

امریکی عدالت میں ایپل کمپنی کے مقدمہ جیتنے کے بعد ہو سکتا ہے سامسنگ کے کچھ فونز بیچنے پر پابندی لگ جائے۔

یہ فیصلہ 2012 میں دائر کیے گئے اس مقدمے کے حوالے سے سنایا گیا ہے جس میں ایپل نے دعویٰ کیا تھا کہ سامسنگ اس کی اجازت کے بغیر اس کی کچھ ٹینالوجی استعمال کر رہا ہے۔

اس مقدمے پر فیصلہ تو 2014 میں سنایا گیا تھا جب ایپل کو 12 کروڑ ڈالر کا حرجانہ دیا گیا تھا۔ لیکن ایپل نے پھر اپیل کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ سامسنگ ان فونز کو بیچنا بند کر دے جن میں یہ متنازع فیچرز موجود ہیں۔ اس وقت تو جج اس پر رضامند نہیں ہوئے لیکن حالیہ حکم نے پہلے فیصلے کو رد کر دیا ہے۔

ایپل کی یہ کوشش کہ سامسنگ متنازع فیچرز والے فونز بیچنا بند کر دے پہلے پہل تو کامیاب نہیں ہوئی کیونکہ ججوں کا کہنا تھا کہ کمپنی نے یہ ثابت نہیں کیا اس سے اسے کافی زیادہ نقصان ہوا ہے۔

اب اس مقدمے کا از سرِ نو جائزہ لیتے ہوئے تین میں سے دو ججوں نے کہا ہے کہ ایپل کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ سامسنگ کے کچھ فونز کی فروخت پر پابندی لگوائے۔

تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ سامسنگ کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ متنازع ٹیکنالوجی والے فونز بیچنا بند کر دے۔ اس فیصلے کا مطلب ہے کہ یہ مقدمہ اب زیریں ضلعی عدالت میں جائے گا جو اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا عدالت کا حکم مناسب ہے کہ نہیں۔

یہ بھی صاف نہیں کہ اس فیصلے کا سامسنگ پر کس طرح کا اثر ہو گا کیونکہ اس کی زد میں صرف گیلیکسی ایس 3 آتا ہے جو 2012 میں لانچ کیا گیا تھا اور اب زیادہ تر مارکیٹ میں نظر بھی نہیں آتا۔ اس کے علاوہ سامسنگ نے اپنے سافٹ ویئر کو اپڈیٹ کر دیا تھا اور اب نئے ماڈلز میں وہ متنازع فیچرز موجود نہیں ہے۔

ولانوا یونیورسٹی سکول آف لا کے پروفیسر مائیکل ریش کہتے ہیں کہ ’ایپل نے تمام راؤنڈ جیتے لیے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سامسنگ کی رفتار سست نہیں کر سکا۔‘

سامسنگ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اسے اپنے اہم فونز بیچنے سے روک نہیں سکتا۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ فیصلہ بے بنیاد ہے۔

اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اعلیٰ عدالت میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق رکھتا ہے۔

ایپل اور سامسنگ کے درمیان ٹیکنالوجی کے پیٹنٹ پر کئی عدالتی جنگیں ہو چکی ہیں۔ 2014 میں دونوں کمپنیوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ امریکہ سے باہر پیٹنٹ کے سبھی مقدموں کو واپس لے لیں گے۔

اسی بارے میں