تجربہ گاہ میں گردے تیار کرنے کی امید افزا کوششیں

تصویر کے کاپی رائٹ

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ پوری طرح سے فعال متبادل گردے کی تیاری سے قریب تر ہیں اور جانوروں پر کیے گئے تجربات کے نتائج امید افزا ہیں۔

جب تجربہ میں تیار کیے گئے ان گردوں کو سؤر اور چوہوں میں منتقل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ قدرتی طریقے سے کام کر رہے ہیں جیسے پیشاپ وغیرہ آنے کا کام۔

ابتدائی نمونوں میں پیشاب کا قدرتی طریقے سے آنا مسئلہ تھا۔ ان نمونوں کی وجہ سے مثانے پر دباؤ پڑتا تھا اور پیشاب آنے میں رکاوٹ ہوتی تھی۔

طبی جریدے پی این اے ایس کی رپورٹ کے مطابق جاپان کی ایک ٹیم نے اس پر مزید کام کیا اور نقلی گردے میں ایک نالی اور مثانے کا اضافہ کر کے اس رکاوٹ کو دور کر دیا۔

ٹوکیو کی جیکی یونیورسٹی میں سکول آف میڈیسن کے ڈاکٹر تاکاشی یوکو اور ان کی ٹیم نے انسانی خلیوں کو استعمال کرنےکا طریقہ اختیار کیا، لیکن انھوں نے صرف گردہ اگانے کے بجائے اس میں ایک نالی اور اس سے جڑے مثانے کا بھی اضافہ کیا تاکہ گردہ پیشاب جمع کرنے کا کام فعال طور پر کر سکے۔

اور جب انھوں نے اس کو تجربہ کیے جانے والے جانور کے مثانے سے جوڑا تو اس نے بہتر طور پر کام کیا۔

اس طریقے سے پیشاب کو منتقل کیے گئے گردے کے ساتھ جڑے ہوئے مثانے سے ہوتا ہوا چوہے کے قدرتی مثانے میں چلا گیا۔ دوبارہ معائنہ کرنے کے بعد دیکھا گیا کہ یہ نقلی گردہ آٹھ ہفتے بعد بھی فعال طور پر کام کر رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تجربہ گاہ میں تیار کیے جانے والے میں انسانی خلیوں کا استعمال کیا گیا ہے اور اس میں کامیابی کے بعد گردے کے ضرورت مند لوگوں کو بہت فائدہ ہو گا

چوہوں کے بعد یہ تجربہ نسبتاً بڑے جانور سؤر پر کیا گیا جس کے وہی نتائج سامنے آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی اس کا تجربہ انسانوں پر کرنے میں کئی برس لگیں گے، لیکن اس تحقیق سے انسانوں کے نقلی اعضا بنانے کے مقصد میں مدد ملے گی۔

یونیورسٹی کالج لندن میں انسانی خلیوں اور تجدیدی طب کے ماہر پروفیسر کرس میسن کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک دلچسپ پیش رفت ہے ۔ یہ تجربہ کافی مستحکم لگتا ہے اور انہوں نے جانوروں پر تحقیق کے اچھے اعداد و شمار حاصل کر لیے ہیں۔

’لیکن ابھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ انسانوں پر بھی اسی طرح کام کر سکے گا۔ اس میں ابھی کئی سال لگیں گے۔ یہ بہت زیادہ تکنیکی کام ہے۔ لیکن اس تجربے سے ہم یہ بات جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ گردے کے ساتھ ایک نقلی نالی اور مثانہ کس کرح کام کریں گے۔

’اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا ہے تو ہم مریض کو نیا گردہ تیار ہونے تک ڈائلسیس پر رکھ سکتے ہیں۔‘

برطانیہ میں 6000 سے زیادہ لوگ گردے کی منتقلی کا انتظار کر رہے ہیں لیکن عطیہ دہندگان کی کمی کی وجہ سے ہر سال 3000 سے بھی کم مریضوں میں منتقلی کا عمل مکمل ہو پاتا ہے۔

گردے کی منتقلی کا انتظار کرنے والے افراد میں سے ہر سال 350 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ روزانہ اوسطاً ایک فرد گردہ نہ ملنے کی وجہ سے مر جاتا ہے۔

تجربہ گاہ میں تیار کیے جانے والے یہ گردے جن میں انسانی خلیوں کا استعمال کیا گیا ہے، اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔

دوسر ے سائنس دان انسان کے ان اعضا پر تجربات کررہے ہیں جو خراب ہونے کی وجہ سے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ پروفیسر ہیرالڈ اوٹ اور ان کے ساتھی اس طریقے پر کام کر رہے ہیں جس میں خراب ہونے والے اعضا کے تمام خلیوں کو ختم کر دیا جاتا ہے اور رہ جانے والے فریم میں نئے صحت مند خلیوں کو پیدا کیا جا سکتا ہے۔

وہ اس طریقے سے اب تک گردے، دل اور پھیپڑے تیار کر چکے ہیں۔

پروفیسر ہیرالڈ اوٹ کہتے ہیں کہ بجائے پورے اعضا کو شروع سے دوبارہ بنانے سے انسانی اعضا کا خول یا فریم استعمال کرنا عمدہ طریقہ ہے۔

اسی بارے میں