دماغ پڑھنے والے آلے کی مدد سے مفلوج شخص چلنے کے قابل

تصویر کے کاپی رائٹ University of California
Image caption ’ہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ اپنی ادراکی قوت دوبارہ بحال کرسکتے ہیں‘

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک مفلوج شخص نے دماغ پڑھنے والے آلے کی مدد سے اپنی ٹانگوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

ایک کمپیوٹر نے دماغ سے نکلنے والی لہروں کو پڑھنے کے بعد اُن کی مدد سے اس کی ٹانگوں کے پٹھوں کی برقی حرکت کو کنٹرول کیا۔

جرنل آف نیورو انجینیئرنگ اور ری ہیبیلیٹیشن میں شائع ہونے والی امریکی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ مفلوج شخص کسی سہارے کی مدد سے چار میٹر تک چلنے کے قابل ہو گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوران توازن برقرار رکھنا ایک اہم مسئلہ تھا جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

ریڑھ کی ہڈی میں لگنے والی چوٹ سے دماغ سے نچلے دھڑ کو موصول ہونے والے پیغامات کا بہاؤ رک جاتا ہے۔ تاہم دماغ اب بھی پیغامات تخلیق کرنے کے قابل ہوتا ہے اور ٹانگوں میں بھی اتنی صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ اُن پیغامات کو وصول کر سکیں۔

کیلیفورنیا کی یونیورسٹی آف اروین کے محققین نے ایک شخص میں، جو پانچ سال سے مفلوج ہے، موجود نقص کو ختم کرنے کے لیے اُس کے دماغ کے ساتھ ایک کمپیوٹر منسلک کیا۔

اس کے سر پر ای ای جی کیپ (الیکٹرو اینسفیلو گراف کی مدد سے دماغ کے برقی افعال کی تصویرحاصل کرنے کا عمل) پہنائی گئی جس کی مدد سے اس کے دماغ کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا گیا۔ اس دوران اسے کہا گیا کہ وہ ایک کمپیوٹر گیم میں اپنے ایواٹار کو کنٹرول کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ریڑھ کی ہڈی میں لگنے والی چوٹ سے دماغ سے موصول ہونے والے پیغامات کا بہاؤ رک جاتا ہے

دلچسپ تحقیق

اس کے بعد اس کی ٹانگوں کے پٹھوں کے ساتھ الیکٹروڈ جوڑے گئے اور اس شخص کی تربیت شروع کر دی گئی کہ وہ اپنی ٹانگوں کو حرکت دے سکے۔

محقق ڈاکٹر این ڈوو کہتے ہیں کہ ’ہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ اپنی ادراکی قوت دوبارہ بحال کر سکتے ہیں اور ریڑھ کی ہڈی کی شدید چوٹ کے بعد بھی دماغ چلنے کے عمل کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

’ٹانگ کے پٹھوں کو پھر سے فعال بنانے کا یہ غیر جراحتی نظام ایک اُمید افزا طریقہ ہے اور دماغ پر قابو پانے والے حالیہ تمام نظاموں میں یہ سب سے جدید نظام ہے جو ورچوئل ریالٹی اور مشینی ایگزو سکیلیکن استعمال کرتا ہے۔‘

ریڑھ کی ہڈی کے متعلق تحقیق کرنے والے ایک فلاحی ادارے کے ڈاکٹر مارک بیکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک دلچسپ ابتدائی تحقیق ہے۔ جو چیز اس کو دلچسپ بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں ورچوئل دنیا سے نکل کر چلنے کے دوران نچلے دھڑ کے پٹھوں کو فعال بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

’اس لحاظ سے اُنھوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اگرچہ آزادانہ انداز میں زمین پر چہل قدمی ابھی کچھ فاصلے پر ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں توازن برقرار رکھنے کے مسئلے کی جانب تاحال کوئی توجہ مبذول نہیں کی گئی۔‘

اسی بارے میں