سگریٹ پیک پر ہیلتھ وارننگ 90 فیصد حصے پر ہوگی: پاکستان

حکومتِ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں بنائے جانے والے سگریٹ کے پیکٹوں پر ہیلتھ وارننگ کو سالانہ دس فیصد کے حساب سے بڑھا کر پانچ سالوں میں نوے فیصد تک لے جائے گی۔

یہ اعلان پاکستان میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم دا نیٹ ورک کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ اٹھاون ارب سگریٹس پیے جاتے ہیں، روزانہ کم از کم بارہ سو نوجوان سگریٹ نوشی شروع کر دتے ہیں اور سالانہ ایک لاکھ دس ہزار افراد سگریٹ نوشی سے ہونے والی بیماریوں کے سبب مر جاتے ہیں۔

ایک ارب سگریٹ نوش

دا نیٹ ورک کے سربراہ ندیم اقبال وزارت صحت کے اقدامات سے مطمعین نہیں۔ ’خود وزارتِ صحت کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ جو انضباطی اقدامات وہ لے رہے ہیں وہ غیر موثر ہوتے جا رہے ہیں۔ مثلاً حکومت کہتی ہے کہ ہم نے ٹیکس بڑھا دیا ہے لیکن اُس کا اثر دیکھنے میں نہیں آرہا۔‘

دا نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ پاکستان کی وزارت صحت نے سگریٹ کے پیکٹس کے 85 فیصد حصے پر ہیلتھ وارنگ جاری کیے جانے کا جو فیصلہ کیا ہے اُسے رکوانے کے لیے بھی تمباکو کی صنعت خاصا دباؤ ڈال رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں نوجوان بڑی تعداد میں تمباکو نوشی کی عادت اختیار کر رہے ہیں۔

پاکستان ٹوبیکو کمپنی سگریٹ کے پیکٹس پر دی جانے والی ہیتلھ وارننگ کو پیکٹ کے نوے فیصد حصے تک پھیلانے کے حکومتی اعلان سے متقفق نہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ہیلتھ وارننگ سے تمباکو نوشی میں کمی آنے کے قابلِ بھروسہ شواہد موجود نہیں۔ البتہ وہ ملک میں سگریٹوں کی غیر قانونی درآمد اور فروخت پر قابو پانے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔

پاکستان کی وفاقی وزیر برائے قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ سگریٹوں کے پیکٹس کے 85 فیصد حصے پر ہیلتھ وارننگ جاری کرنے کے حکومتی فیصلے کو رکوانے کے لیے تمباکو کی صنعت، دکانداروں اور کسانوں کا خاصا دباؤ تھا۔

سائرہ افضل تارڑ نے بتایا کہ ہیلتھ وارننگ کے معاملے پر صنعت کے لوگوں کے ساتھ ایک ملک کے سفیر نے بھی اُن سے ملاقات کی تھی لیکن بعد میں سفیر کو اُن کے ملک نے اس معاملے سے دور رہنے کی ہدایت کی۔ تاہم انھوں نے سفیر کا نام یا ملک کا نام نہیں بتایا۔

سائرہ افضل تارڑ نے بتایا ’دباؤ کی وجہ سے میری سربراہی میں ایک کمیٹی وزیر خزانہ نے بنا دی جس میں تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے اور اس کمیٹی کے خاصے طویل اجلاس ہوئے۔ مشاورت کے بعد یہ طے پایا کہ ہم پانچ سالوں کے دوران دس فیصد سالانہ کے حساب سے ہیلتھ وارننگ کو سگریٹ کے پیکٹوں پر بڑھائیں گے یعنی پانچ سال بعد یہ وارننگ پیکٹ کے نوے فیصد پر چھپی ہو گی۔‘

وزیر برائے قومی صحت سائرہ افضل تارڑ کا یہ بھی کہنا تھا تمباکو کی صنعت قانون کی پاسداری کرتی ہے اور قومی خزانے کو وصول ہونے والے ٹیکس میں بڑا حصہ سگریٹ ساز اداروں کا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں