پاکستان، افغانستان کےعلاوہ دنیا سے پولیو کی وبا ختم

تصویر کے کاپی رائٹ WHO
Image caption نائجیریا میں گذشتہ ایک برس کے دوران پولیو کا کوئی مریض سامنے نہیں آیا ہے

عالمی ادارۂ صحت نے نائجیریا کا نام پولیو کے لیے مخصوص ممالک کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے کو اس بڑے افریقی ملک سے پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں ایک ’سنگِ میل‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

نائجیریا کا نام فہرست سے خارج کرنے کا اعلان نیویارک میں جمعے کو عالمی انسدادِ پولیو انیشیئیٹو کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔

نائجیریا میں گذشتہ ایک برس کے دوران پولیو کا کوئی مریض سامنے نہیں آیا ہے۔

کسی بھی ملک کو پولیو سے پاک اسی صورت میں قرار دیا جاتا ہے جب تین برس تک وہاں پولیو کے کسی نئے مریض کی نشاندہی نہ ہو۔

نائجیریا میں یونیسف کے نمائندے جین گوہ نے بی بی سی کے نمائندے فرگل والش کو بتایا کہ ’یہ ایک اہم سنگِ میل ہے لیکن ابھی جشن منانے کا وقت نہیں۔ اگر ہمیں ملک سے پولیو کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کے لیے ہر سطح ہر کوشش کرنی ہوگی۔‘

خیال رہے کہ نائجیریا میں پولیو کے خاتمے کی مہم مشکلات کا شکار رہی ہے اور شمالی ریاستوں میں دس برس قبل ویکسین کا یہ کہتے ہوئے بائیکاٹ کیا گیا تھا کہ اسے استعمال کرنے والا بانجھ پن کا شکار ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیو کا مرض پانی کا نکاسی کے خراب نظام اور آلودہ پانی سے پھیلتا ہے اور اس کا شکار اکثر بچے ہوتے ہیں

اس کے بعد سنہ 2013 میں ملک میں پولیو کی ویکسین دینے والے رضاکاروں پر حملے ہوئے جس کے بعد یہ مہم سست پڑ گئی۔

تاہم حکومت کی جانب سے پولیو کو قومی ایمرجنسی قرار دیے جانے کے بعد مہم نے زور پکڑا اور اس سلسلے میں حکومت کو مذہبی اور سماجی رہنماؤں کی مدد بھی حاصل ہوئی۔

فہرست سے نائجیریا کے اخراج کے بعد اب اس میں صرف پاکستان اور افغانستان کے نام ہی باقی بچیں گے جہاں اب تک پولیو کے پھیلاؤ پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

پولیو کا مرض پانی کا نکاسی کے خراب نظام اور آلودہ پانی سے پھیلتا ہے اور اس کا شکار اکثر بچے ہوتے ہیں۔

پولیو کا وائرس مریض کے اعصابی نظام کو نشانہ بناتا ہے اور اس کی وجہ سے چند گھنٹوں میں مریض کا نچلا دھڑ خصوصاً ٹانگیں مفلوج ہو جاتی ہیں اور ان کا علاج ممکن نہیں رہتا۔

اسی بارے میں