گوگل سرچ انجن کی نئی سرحدیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گوگل سرچ کے سربراہ امِت سنگھال

گوگل ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے انٹرنیٹ پر صفِ اول کا سرچ انجن ہے اور اس کے ہوم پیج پر موجود مستطیل اور ویب براؤزر کی ایڈریس بار کروڑوں صارفین کو ان کے مطلوبہ نتائج تک لے جاتے رہے ہیں۔

تاہم اب صارفین کی بڑی تعداد کمپیوٹر سے زیادہ سمارٹ فون کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں جس کے بعد صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

گوگل سرچ کے سربراہ امِت سنگھال کا کہنا ہے کہ ’جب آپ کے پاس پانچ انچ کی سکرین ہو تو یہ ٹائپنگ کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی۔ اس لیے موبائل (فون) پر ضروری ہے کہ آپ صارفین کو رابطے کے لیے نئے طریقے فراہم کریں۔‘

اس مسئلے کے حل کے لیے امِت سنگھال کی ٹیم نے ’ناؤ آن ٹیپ‘ تیار کیا ہے۔

جدید اینڈروئڈ موبائل آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ فراہم کیا جانے والا یہ نیا فیچر صارف کو سکرین پر صرف ایک بٹن دبانے سے سکرین پر موجود چیزوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔

امِت سنگھال نے مثال دیتے ہوئے سمجھایا کہ اگر وہ اپنی اہلیہ کو ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے کسی ریستوران کا نام بھیجیں تو جب ریستوران کا نام ایس ایم ایس میں ظاہر ہو ان کی اہلیہ کو صرف ہوم بٹن کو دبانا پڑے گا اور اس ایک عمل سے ریستوران کا پتہ، راستہ اور کاروباری نظام الاوقات معلوم ہو جائیں گے۔

یہ فیچر کسی بھی ایپ کے ساتھ کام کر سکتا ہے اور اگر کوئی مخصوص چیز تلاش کرنا چاہے تو وہ ’او کے گوگل‘ کہہ کر سرچ کے لیے اپنی آواز بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر سپوٹیفائی پر کسی گانے کا نام دکھائی دے تو آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ’اس کا گلوکار کون ہے؟‘

امِت سنگھال کہتے ہیں کہ ’یہ سرچ موبائل کی دنیا کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ آپ کو ایک ونڈو میں کچھ ٹائپ کر کے دوسری ونڈو میں جانے کی صرورت نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ GOOGLE
Image caption اس فیچر کو استعمال کرنے والوں کو اپنی عادات اور ترجیحات کے بارے میں مزید معلومات ظاہر کرنا پڑیں گی

اس فیچر کو استعمال کرنے والوں کو اپنی عادات اور ترجیحات کے بارے میں مزید معلومات ظاہر کرنا پڑیں گی۔ اس طریقے سے گوگل کو اشتہارات صارف تک پہنچانے میں آسانی ہوتی ہے لیکن اس کے باعث گوگل کو تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔

اس سال کے آغاز میں ایپل کے چیف ایگزیکیٹو ٹِم کُک کا کہنا تھا کہ ’اُن کی کوشش ہے کہ وہ آپ کے بارے میں ممکن ترین حد تک زیادہ معلومات ہڑپ کر سکیں۔ ہمارے خیال میں یہ غلط ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک دن صارفین پر بھی یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی۔‘

ایپل نے اس بات پر کافی زور دیا ہے کہ وہ صارفین سے متعلق اکٹھی کی گئی معلومات کو خفیہ رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایپل اپنے سرورز پر ’لوکیشن سپیسیفِک‘ الرٹس کو ’ٹریول ہسٹری‘ اور ’اکاؤنٹ آئی ڈی‘ ریکارڈ کیے بغیر ارسال کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایپل کے چیف ایگزیکیٹو ٹِم کُک

امِت سنگھال کا کہنا ہے کہ گوگل اپنے پاس جمع شدہ ڈیٹا پر صارفین کو ’مکمل کنٹرول‘ دیتا ہے۔

’ورچوئل مددگار‘

’کوم سکور‘ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکہ میں صارفین سرچ کے لیے ایپس پر موبائل براؤزر سے چھ گنا زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔

’ناؤ آن ٹیپ‘ گوگل کو وہاں فائدہ دیتا ہے جہاں کوئی ایپ اس کی اپنی نہیں ہوتی۔

لیکن گوگل کو ایک اور مسئلے کا سامنا بھی ہے اور وہ یہ کہ صارفین کو گوگل کی مد مقابل کمپنیوں کے ’ورچوئل اسسٹنٹ‘ زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

ایپل نے اس معاملے میں سب سے پہلے ’سری‘ کو پیش کیا اور اب وہ یہ سروس ٹی وی کو بھی فراہم کرے گا۔ مائیکروسافٹ نے ونڈوز 10 میں کورٹانا متعارف کرایا اور اب اسے اینڈروئڈ اور ’آئی او ایس‘ تک پھیلا رہا ہے۔

فیس بک اپنے میسینجر ایپ پر ’ایم‘ کا تجربہ کر رہا ہے جبکہ ایمزون دیگر کمپنیوں کے گیجٹس اور ایپس کو ’ایلیکسا‘ کی پیشکش کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook microsoft apple
Image caption فیس بک، مائکرو سافٹ اور ایپل نے اپنے ڈیزائین شدہ „ورچوئل اسسٹنٹس‘ کو شخصیات دی ہے

یہ بات تعجب خیز ہے کہ گوگل کے حریف اپنے آلات کو ایک شخصیت فراہم کر رہے ہیں جبکہ گوگل کے اپنے وائس سرچ رزلٹ ان کے مقابلے میں بے روح دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن امِت سنگھال کا کہنا ہے کہ ایسے ’کمپیوٹر کوڈڈ کیریکٹرز‘ فی الوقت ’پرائم ٹائم‘ کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کمپیوٹر بیسڈ‘ شخصیات کے لیے سب سے بڑا چیلینج یہ ہے کہ ’ہیومن بیسڈ انٹرایکشن‘ آواز میں زیادہ قوی ہوتی ہیں جس کا اطلاق ابھی کسی ایلگوردم میں نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ ایک مزاحیہ کردار یا ایک طنزیہ کردار ہر وقت کے لیے موزوں نہ ہو۔

’اورگنائزنگ میموریز‘

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption گوگل کی فوٹوز ایپس خود بخود تصاویر کی صحیح کی ورڈز کے ساتھ درجہ بندی کرنے کی کوشش کرتی ہیں

اس دوران گوگل ’امیج ریکگنیشن‘ یا تصاویر میں خوب سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

اس سرمایہ کاری کے اولین فوائد میں گوگل کی فوٹوز ایپس شامل ہیں جو خود بخود تصاویر کی صحیح کی ورڈز کے ساتھ درجہ بندی کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

امِت سنگھال نے اس کا مظاہرہ اپنے فون میں محفوظ کچھووں کی ان تصاویر کو ڈھونڈ کر کیا جنھیں انھوں نے ٹیگ نہیں کیا تھا۔

تاہم اس ٹیکنولوجی کو ابتدائی مسائل کا سامنا بھی ہے جن میں یہ واقعہ بھی شامل ہے کہ اس نے غلطی سے سیاہ فام لوگوں کو گوریلے کا نام دے ڈالا۔

وہ مسئلہ حل تو ہو گیا ہے لیکن امِت سنگھال اس ٹیکنولوجی کی حالیہ صورت میں اس کی قدغنوں کو تسلیم کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
Image caption جـون میں گوگل فوٹوز نے غلطی سے سیاہ فام لوگوں کو گوریلے کا نام دے ڈالا

’اب سے کئی برس پہلے جب ہم نے وائس ریکگنیشن پر کام شروع کیا تو ہم چار میں سے ایک لفظ پر غلطی کرتے تھے۔ اور اگر آپ چار میں سے ایک لفظ پر غلطی کر رہے ہیں تو اس سے ایک معیاری پروڈکٹ نہیں بن سکتی۔ کمپیوٹر وژن آج اس مقام پر ہے۔

’آج ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک کرسی ہے لیکن ہم اس کرسی کی ساخت یا ماڈل نہیں بتا سکتے۔‘

تاہم ایسی قدغنیں ایمیزون کو ’فائر فلائی‘ پیشکش کرنے سے نہیں روک پائیں۔

’فائر فلائی‘ ایمیزون کے فائر فون پر ایک ایسا فیچر ہے جو صارفین کو اصلی چیزوں کو سکین کر کے ان کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

لیکن امِت سنگھال کہتے ہیں کہ یہ محض اتفاق کی بات نہیں کہ یہ فون فلاپ ہو گیا اور حال ہی میں مارکیٹ سے اسے واپس منگا لیا گیا۔

Image caption ’فائر فلائی‘ ایمیزون کے فائر فون پر ایک ایسا فیچر ہے جو صارفین کو اصلی چیزوں کو سکین کر کے ان کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتا ہے

’مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے یہ چیزیں کرنے کی کوشش کی کیونکہ اس سے سب کے لیے مقابلہ بڑھتا ہے۔ لیکن اس سے کہیں پہلے ہمارے پاس ’گوگل گوگلز‘ ایپ تھی۔ اور ہم نے یہ سبق حاصل کیا کہ اس سے پہلے کہ ہم اس سے اربوں اشیا بنائیں، اس ٹیکنولوجی پر ابھی بہت کام کی ضرورت ہے۔‘

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ امِت سنگھال گوگل کو درپیش ریگیولیٹری تفتیشوں کے بارے میں تفصیلی بات نہیں کرنا چاہتے۔

بھارت اور ایران نے گوگل پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ سرچ میں اپنی برتری کا غلط استعمال کر کے حریف کمپنیوں پر سبقت لے جاتا ہے۔ حال ہی میں امریکی جریدے وال سٹریٹ نے یہ خبر شایع کی کہ اب امریکہ بھی اس معاملے کو دیکھ رہا ہے۔

امِت سنگھال کہتے ہیں کہ ’دنیا کس طرح سے موبائل ڈیوائسز پر معلومات حاصل کرتی ہے، یہ ایک کھلا میدان ہے اور اس میں بہت سے حریف ہیں جن میں سے کئی کے پاس بہت سرمایہ ہے۔

’میرے خیال میں ماضی کا چشمہ پہن کر مستقبل کا بارے میں سوچنا بالکل غلط ہے۔ اس سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ آتی ہے۔‘

تاہم امِت سنگھال کو یقین ہے کہ گوگل اپنے شعبے میں سب سے آگے ہی رہے گا۔

’اس مقام پر مقابلہ ہونا ہمیں ایماندار رکھتا ہے۔ سائنس ترقی کرتی ہے۔ ہم ایسی چیزیں بناتے ہیں جو ویسے موجود نہیں ہوتیں۔

’ہم یہ 17 برسوں سے کر رہے ہیں۔ مستقبل گوگل سرچ کی پائیدار بنیادوں پر پروان چڑھے گا اور ہمیں یقین ہے کہ یہ مستقبل ہمارے صارفین کے لیے فائدہ مند ہو گا۔‘

اسی بارے میں