ہیکرز جدید طبی آلات کو نشانہ بنا سکتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption محققین نے بتایا کہ انھوں نے کچھ نقلی طبی آلات بنائے تھے جنھوں نے ہزاروں ہیکروں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا

محققین کا کہنا ہے کہ ہیکرز انٹرنیٹ کے ذریعے ایم آر آئی مشینوں جیسے ہزاروں اہم طبی سسٹمز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صحت عامہ سے متعلق ایک بڑے امریکی گروپ کی 68 ہزار کے قریب مشینیں ایسے حملوں کا شکار ہوئی ہیں تاہم انھوں نے اس گروپ کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔

سکاٹ ارون اور مارک کولاؤ نے اپنے نتائج امریکی ریاست کینٹکی کے شہر لوئیویل میں منعقد ہونے والی ہیکروں کی کانفرنس میں پیش کیے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے کچھ نقلی طبی آلات بنائے تھے اور ہزاروں ہیکروں ان کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔

محققین نے شرکا سے کہا کہ طبی نظام سے منسلک انٹرفیس تک ایک سرچ انجن ’شودان‘ کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

سکاٹ اور مارک نے ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹ ’دا رجسٹر‘ کو بتایا کہ انھیں ’ہزاوں قسم کی غلطیوں کے ساتھ ساتھ وہ طریقے بھی ملے جن کے ذریعے ہیکر مختلف نظام میں رسائی حاصل کرتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے سب سے زیادہ خطرہ ہسپتالوں اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ان کے انتظامی کمپیوٹرز کو پہنچ سکتا ہے جن میں مریضوں کی معلومات شامل ہوتی ہیں۔

محققین نے کہا کہ انھوں نے مشہور طبی آلات کے کئی تیار کنندگان کو درجنوں قسم کے خطرات کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے ایک مثال پیش کی جس سے یہ پتا چلا کہ ہیکر ابھی سے طبی آلات کو اپنا ہدف بنا رہے ہیں۔

محققین نے جھ ماہ کے لیے نقلی ایم آر آئی اور ڈی فبرلیٹر مشینیں چلائیں جو اصلی آلات کا کردار ادا کر رہی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ نقلی آلات میں ہزاروں دفعہ لاگ ان یعنی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ ان آلات نے 299 دفعہ میلویئر یعنی نقصان دہ سافٹ ویئر بھی ڈاؤن لوڈ کرنے کی کوشش کی تھی۔

محققین نے اصلی طبی آلات کو زیادہ محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسی بارے میں