ایڈز سے متعلق رہنما اصول تبدیل

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایڈز کے وائرس ایچ آئی وی سے متعلق اپنے رہنما اصولوں کو تبدیل کر دیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ایڈز سے متاثرہ کسی بھی شخص کو فوری طور پر اینٹی ریٹرو وائرل ادویات دی جانی چاہیئں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق طبی تجربات سےظاہر ہوا ہے کہ ادویات کے جلد استعمال سے ایچ آئی وی کے وائرس منتقل ہونے کے خطرے سے بچا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل عالمی ادارۂ صحت نے ڈاکٹروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان لوگوں میں اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک علاج کا انتظار کریں۔

ایڈز سے متعلق نئی گائیڈ لائنز سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں اس بیماری کے علاج کے اہل افراد کی تعداد 28 ملین سے بڑھ سے 37 ملین تک پہنچ جائے گی۔

اس مرض کے پھیلنے کی بڑی وجوہات میں مردوں میں ہم جنس پرستی، ایک سے زیادہ افراد سے جنسی تعلقات اور منشیات کا استعمال شامل ہیں۔

ایچ آئی وی کی وبا 1980 کی دہائی میں منظرِ عام پر آئی تھی اور اب تک اس سے 75 ملین افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

اس کی افریقہ میں ایک لمبی تاریخ ہے لیکن ابھی تک اس بات پر بحث جاری ہے کہ اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں ساڑھے تین کروڑ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں اور ان کے جسم میں ایچ آئی وی وائرس اور دفاعی نظام کے درمیان جنگ چل رہی ہوتی ہے۔

اسی بارے میں