برطانیہ:گاڑیوں میں تمباکو نوشی پر پابندی کا قانون نافذ

انگلینڈ اور ویلز میں گاڑیوں میں بچوں کے ہمراہ سفر کے دوران تمباکو نوشی پر پابندی کا قانون نافذ ہو گیا ہے۔

اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں اور مسافروں کو 50 پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا ہو گا تاہم برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ابتدائی طور پر اس قانون کے حوالے سے نرم پالیسی اپنائے گی۔

اس قانون کے مطابق برطانیہ میں جب بھی 18 سال سے کم عمر کا بچہ گاڑی میں سفر کر رہا ہو گا تو سگریٹ پینے والے افراد گاڑیوں کے شیشے یا سن روف کھلے ہونے کے باوجود تمباکو نوشی نہیں کر سکیں گے۔

تاہم اس قانون کا اطلاق ایسے افراد پر نہیں ہو گا جو کنورٹیبل گاڑی کی چھت نیچے کر کے چلا رہے ہوں گے۔

اس قانون کا اطلاق ای سگریٹ پر بھی نہیں ہو گا۔

دوسری جانب سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کے بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ وہ بھی آئندہ برس سے بچوں کے ہمراہ گاڑی میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد کرے گی۔

دریں اثنا شمالی آئر لینڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ گاڑی میں بچوں کے ہمراہ تمباکو نوشی پر پابندی کے قانون کا جائزہ لینے کے بعد اس قانون کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے۔

برطانیہ کی پھیپھڑوں سے متعلق فاؤنڈیشن کے مطابق ہر ہفتے 4,30,000 سے زیادہ بچے گاڑیوں میں سیکنڈ ہینڈ سموک سے متاثر ہوتے ہیں۔

فاؤنڈیشن کے مطابق زیادہ سگریٹ نوشی سے بچوں میں دمے کا مرض بڑھنے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

برطانیہ کے طبی ماہرین نے اس قانون کو ’بہت بڑی فتح‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے سنہ 2007 میں عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پانبدی کے بعد اسے بہت معنی خیز سنگِ میل قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں