حاملہ خواتین میں شُوگر کا خطرہ زیادہ

شاہدہ اکبر کو 24 سال کی عمر میں ذیابیطس کی بیماری ہوگئی تھی، بالکل اُسی طرح جیسے ہر سال ہزاروں خواتین دوران حمل اس کا شکار ہو جاتی ہیں۔

برطانیہ میں ذیابیطس پر کام کرنے والی تنظیم ’ڈائبیٹیس یو کے‘ کے مطابق جب خواتین حاملہ ہوتی ہیں تو جسم میں بننے والے ہارمونز انسولین کو خون میں شوگر کی سطح کو درست طریقے سے کنٹرول کرنے سے روکتے ہیں۔

ادارے نے خواتین کو خبردار کیا ہے کہ اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ صحت مند ہوں کیونکہ اِس بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سب سے بہترین علاج یہی ہے۔

شاہدہ کا کہنا ہے کہ ’جب میں حاملہ تھی اور ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ مجھے ذیابیطس ہے تو میں پریشان ہوگئی تھی۔ لیکن میں جانتی تھی کہ مجھے تبدیل ہونا پڑے گا۔‘

’میرا سائز اُس وقت ضرور18 ہوگیا ہوگا۔ مطلب ایسی حالت میں آپ کو اپنا اور بھی زیادہ خیال رکھنا ہوگا جب آپ کا بچہ بھی ہونے والا ہو۔‘

برطانیہ کے محکمۂ صحت ’این ایچ ایس‘ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں سے 100 میں سے 18 خواتین دوارنِ حمل ذیابیطس سے متاثر ہوسکتی ہیں۔

اِس بیماری کی علامات ہمیشہ ظاہر نہیں ہوتیں لیکن زیادہ پیشاب آنا اور تھکان محسوس کرنا خون میں گلوکوز کی سطح بلند ہونے کی دو علامات ہیں۔

شاہدہ کا کہنا ہے کہ ’اگر آہ کا تعلق ایشیائی خاندان سے ہو اور آپ کا وزن بھی زیادہ ہو تو، اس بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘

یہ ڈاکٹروں پر منحصر ہے کہ وہ آپ کو کوئی غذا یا کھانے کا ایک مربوط نظام اپنانے کا کہتے ہیں یا دواؤں اور انسولین سے بیماری کا علاج کرتے ہیں۔

اگر بیماری کا علاج چھوڑ دیا جائے تو یہ ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے خطرہ ہے۔ اس سے ممکنہ طور پر پیدائش میں پیچیدگیاں آسکتی ہیں، بچے کا وزن زیادہ ہو سکتا ہے اور ہنگامی طور پر آپریشن کرنے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اسقاطِ حمل کا خطرہ بھی رہتا ہے۔

’میرے بچوں کا وزن تھوڑا زیادہ تھا کیونکہ جب آپ کو ذیابیطس ہو تو اِس کا خطرہ ہوتا ہے تو اُن کی پیدائش آپریشن کے ذریعے سے ہوئی۔‘

برطانیہ کے ذیابیطس کے ادارے کی سینیئر طبی مشیر لیبی ڈاؤلنگ کا کہنا ہے کہ ’جب آپ دوران حمل ذیابطیس کا شکار ہیں تو آپ کو مسلسل دائیوں یا نرسوں سے مشورہ کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔‘

’یہ جاننے کے لیے کہ آپ صحت مند ہیں، ڈاکٹر آپ کو ذیابیطس چیک کرنے والا آلہ مہیا کریں گے اور آپ کو اِس کا استعمال سکھائیں گے۔‘

لیبی ڈاؤلنگ کے بقول ’دوران حمل کسی کو بھی ذیابیطس ہو سکتی ہے، لیکن جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والی خواتین اور وہ جن کےخاندان میں کوئی اِس بیماری سے متاثر رہا ہو اور جن کا وزن زیادہ ہو وہ خواتین اس سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔‘

بہت سارے کیسز میں بچے کی پیدائش کے بعد شوگر کی سطح واپس عام حالت میں چلی جاتی ہے۔ لیکن برطانیہ کے ذیابیطس کے ادارے سے منسلک تحقیق کاروں کا کہنا ہے دوران حمل ہونے والی ذیابیطس سے ٹائپ ٹو کی ذیابیطس ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ یہی معاملہ شاہدہ کا بھی ہے جو اس وقت 40 کی دہائی میں قدم رکھ چکی ہے۔

طرز زندگی یکسر تبدیل

شاہدہ کا کہنا ہے کہ’ ذیابیطس سے میری زندگی بدل گئی ہے۔‘

’میں گھر پر رہنا چاہتی ہوں۔ پہلے میں ورزش کے بارے میں پریشان نہیں ہوتی تھی لیکن جب سے مجھے میری حالت کا معلوم ہوا ہے میں نے فاسٹ فوڈ اور چاول کھانا چھوڑ دیے ہیں۔ ‘

Image caption خون جسم میں شوگر کو کیسے کنٹرول کرتا ہے

’اِس کے لیے کافی ورزش اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے لیکن میں نے اپنا موٹاپا کم کیا ہے اور میں 18 کے سائز سے کم کرکے 12 پر آگئی ہوں۔‘

’میں ہر روز جِم جاتی، تقریباً 40 منٹ مشینوں پر ورزش کرتی اور میں بہت زیادہ چہل قدمی کرتی۔‘

’اب میں خود پر زیادہ سختی نہیں کرتی لیکن میں اب بھی ہفتے میں دو یا تین بار جِم جاتی ہوں۔‘

’صرف میں نہیں ہوں جو چاق و چوبند یا فعال رہنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘

’سلاوُ جس علاقے میں میری رہائش ہے، وہاں میں نے ایک کمیونیٹی گروپ تشکیل دیا ہے اور ہم یو گا سے لے کر ایروبک تک ہر ہفتے کھیلوں کی سرگرمیاں منعقد کراتے ہیں۔‘

جنوبی ایشیائی نژاد لوگوں میں ٹائپ ٹو ذیابیطس چھ گناہ زیادہ عام ہے اور اِس سے دیگر بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں جیسے کہ دل کے امراض۔

عام لوگوں کے مقابلے میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد میں دل کے امراض سے جلدی موت کا امکان دوگناہ ہوتا ہے۔

ماہرین کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہے لیکن اِس کا تعلق غذا، طرز زندگی اور جسم میں موجود چربی سے بھی ہوسکتا ہے۔

برطانیہ کے ذیابیطس کے ادارے کا کہنا ہے اگر دورانِ حمل ماں ’گیسٹیشنل ذیابیطس‘ کا شکار ہو جاتی ہے تو بعد میں ماں اور بچے میں ٹائپ ٹو ذیابیطس ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

شاہدہ کا کہنا ہے کہ’ جوانی کی عمر میں اِس بیماری نے مجھے مکمل تبدیل کردیا ہے۔‘

’کبھی کبھار بچوں کو مشروبات پینے سے روکنا بہت مشکل ہوجاتا ہے لیکن میں یہ کوشش کرتی ہوں اور ورزش کرنے کے لیے اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں تاکہ اِن میں ذیابیطس کا خطرہ کم ہو۔

’میں اِس بات کی کوشش کرتی ہوں کہ صحت مندرہنے کے لیے ہفتے میں ایک بار ذیابیطس کی جانچ ضرور کراؤں۔‘

اسی بارے میں