’برطانوی خفیہ ادارہ پاکستان میں کمیونیکیشن ڈیٹا کی نگرانی کرتا رہا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی ایک دستاویز کے مطابق برطانوی خفیہ ادارہ جی سی ایچ کیو پاکستان میں کمیونیکیشن ڈیٹا کی نگرانی کرتا رہا ہے۔

ماسکو سے بی بی سی کے پروگرام پینوراما میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس قسم کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے ’سی این ای‘ یا کمپیوٹر نیٹ ورک ایکسپلوائٹیشن کا استعمال کیا گیا اور ٹیکنالوجی کمپنی ’سسکو‘ کے راؤٹرز کو ہیک کر کے معلومات حاصل کی گئیں۔

دستاویز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پاکستان سے ان معلومات کے حصول کا مقصد کیا تھا۔

پہلے حکومت کے لیے کام کرتا تھا۔ اب میں عوام کے لیے کام کرتا ہوں‘

بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر ٹیلر کے مطابق یہ جاسوسی برطانوی حکومت کی اجازت سے کی گئی تھی اور بظاہر اس کا مقصد دہشت گردوں کی شناخت اور نشاندہی میں مدد کرنا تھا۔

برطانوی حکومت نے سنوڈن کے ان دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں ایڈورڈ سنوڈن کا کہنا تھا کہ ’سی این ای بنیادی طور پر ڈیجیٹل جاسوسی ہے جس میں آپ ان چیزوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو آپ کی ملکیت نہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں جی سی ایچ کیو اور این ایس اے جیسے خفیہ ادارے نیٹ ورک سروس پروائیڈر کے علم میں لائے بغیر خفیہ طور پر ان نیٹ ورکس سے جڑے ایسے آلات تک مکمل رسائی پا لیتے ہیں جن میں ان کی دلچسپی ہو۔

سمارٹ فونز کو محفوظ رکھنا تقریباً ناممکن

سنوڈن نے یہ بھی بتایا کہ جدید سمارٹ فونز کو سکیورٹی ایجنسیوں کی مکمل رسائی سے محفوظ رکھنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے اور ایسے فون استعمال کرنے والے اپنی معلومات کے بچاؤ کے لیے نہ ہونے کے برابر اقدامات ہی کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنوڈن نے حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اکاؤنٹ کھولا ہے

انھوں نے دعویٰ کیا کہ برطانوی خفیہ ادارہ جی سی ایچ کیو اس بات پر قادر ہے کہ وہ فون کے مالک کے علم میں آئے بغیر فون ہیک کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ جی سی ایچ کیو ایک انکرپٹڈ تحریری پیغام بھیج کر کسی بھی سمارٹ فون کو تصاویر کھینچنے یا اس پر کی جانے والی بات چیت سننے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

اپنے انٹرویو میں سنوڈن نے یہ تو نہیں کہا کہ جی سی ایچ کیو یا امریکی ایجنسی این ایس اے بڑے پیمانے پر شہریوں کی نجی گفتگو سننے میں مصروف ہیں تاہم ان کا یہ ضرور کہنا تھا کہ دونوں ایجنسیوں نے اس ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے جو سمارٹ فونز کی ہیکنگ میں استعمال ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ آپ کی جگہ وہ آپ کے فون کے اصل مالک ہوں۔‘

سنوڈن کا کہنا تھا کہ جب خفیہ ادارے کسی صارف کے فون تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں تو پھر وہ جان سکتے ہیں کہ مذکورہ فرد ’کسے کال کرتا ہے۔ کیا پیغامات بھیجتا ہے اور انٹرنیٹ پر کہاں کہاں جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’انھیں آپ کے رابطے میں رہنے والے افراد، آپ کی نقل و حرکت اور ان وائرلیس نیٹ ورکس کا بھی علم ہوتا ہے جن سے آپ رابطہ کرتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ ایڈورڈ سنوڈن نے 2013 میں میڈیا میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی کے انٹرنیٹ اور فون ریکارڈز کی نگرانی کی تفصیلات عام کی تھیں اور اس کے بعد انھوں نے امریکہ چھوڑ دیا تھا اور اب وہ روس میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں