ڈی این اے کی مرمت کا عمل دریافت کرنے پر نوبیل انعام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سنہ 2015 کا کیمیا کا نوبیل انعام ڈی این اے میں نقائص دور کرنے کے عمل کی تفصیل دریافت کرنے والے سائنس دانوں ٹامس لنڈل، پول ماڈرچ اور عزیز سنجار کو دیا گیا ہے۔

ان کے ناموں کا اعلان بدھ کو سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں کی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا۔

ٹامس لنڈل ، پول ماڈرچ اور عزیز سنجار نے اپنی تحقیق سے اس عمل کا پتہ چلایا جس کے ذریعے خلیے ڈی این اے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی مرمت کرتے ہیں۔

انعام کے طور پر ملنے والے تقریباً دس لاکھ ڈالر ان تینوں میں برابر تقسیم کیے جائیں گے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوے ٹامس لنڈل کا کہنا تھا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ میں ماضی میں بھی انعام کے لیے نامزد ہو چکا ہوں، لیکن کئی سو دیگر افراد بھی نامزد ہو چکے ہیں۔آج مجھے نوبیل انعام ملنا میری خوش قسمتی اور میرے لیے باعثِ فخر ہے۔‘

پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ڈی این اے خاصا پائیدار مالیکیول ہے اور اس میں رد و بدل نہیں ہوتا۔ لیکن پھر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے اور کئی قسم کے کیمیائی اجزا ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان میں سگریٹ کے دھویں میں شامل اجزا اور ریڈی ایشن وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ جب خلیے تقسیم ہوتے ہیں تب بھی ڈی این اے میں گڑبڑ پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ یہ عمل روزانہ کروڑوں بار دہرایا جاتا ہے۔

ڈی این اے میں در آنے والی ان خرابیوں کے باعث سرطان سمیت دوسری کئی بیماریاں پید ہو سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ istock
Image caption پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ڈی این اے خاصا پائیدار مالیکیول ہے اور اس میں رد و بدل نہیں ہوتا۔ لیکن پھر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے اور کئی قسم کے کیمیائی اجزا ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں

اس کی روک تھام کے لیے جسم ایک خصوصی عمل کے ذریعے ساتھ ساتھ ڈی این اے کی مرمت کرتا رہتا ہے۔ نوبیل انعام جیتنے والے ان تینوں سائنس دانوں نے ڈی این اے کی مرمت کے نظام کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

پروفیسر لنڈال نے دریافت کیا کہ ڈی این اے کٹائی کے عمل کے ذریعے خراب حصوں کو کاٹ پھینکتا ہے۔

ترکی نژاد بائیو کیمسٹ عزیز سنجار نے وہ عمل دریافت کیا جس کے تحت ڈی این اے بالائے بنفشی شعاعوں سے پیدا ہونے والے نقصان کا مقابلہ کرتا ہے۔

امریکی سائنس دان پال موڈرچ نے یہ دکھایا کہ خلیے تقسیم کے عمل سے گزرنے کے دوران ڈی این اے کے اندر پیدا ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔

اس عمل کے تحت غلطی کی شرح میں ایک ہزار گنا کمی واقع ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں