کام چھوڑ دو: امریکی خفیہ اداروں کے ارکان کو پیغام

تصویر کے کاپی رائٹ intele xit
Image caption این ایس اے کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ قانون کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کام کرتی ہے

ایک ڈرون طیارے نے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے قریب ڈیگر کمپلیکس نامی امریکی فوجی اڈے پر پرچیاں گرائی ہیں جن میں امریکی قومی سکیورٹی ایجنسی این ایس اے کے 1100 ملازمین کو اپنا کام چھوڑ نے کی تاکید کی گئی ہے۔

پرچیاں گرانے والے ’انٹیلی ایگزٹ‘ نامی تنظیم کا موقف ہے کہ اُس کے اس عمل کا مقصد بڑے پیمانے پر نگرانی کرنے والے پروگراموں اور ڈرون جنگ کی مدد کے لیے کام کرنے والوں میں بیداری پیدا کرنا ہے۔

یورپیئن کرپٹولوجک سینٹر نامی این ایس اے کی یہ عمارت جرمنی میں ادارے کا تجزیاتی مرکز سمجھتی جاتی ہے۔

این ایس اے کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ قانون کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کام کرتی ہے۔

انٹیلی ایگزٹ کی ترجمان ساشا فیوگل کے مطابق: ’ہم جانتے ہیں کہ ڈیگر کمپلیکس کے بعض ملازمین کو جاسوسی سے خاموش وابستگی کے باعث غیر معمولی اخلاقی کشمکش کا سامنا ہے۔‘

گذشتہ ہفتے انٹیلی ایگزٹ نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کے دفاتر کے قریب سے ان پیغامات پر مشتمل بِل بورڈز (اشتہاری بورڈ) گزارے جن پر لکھا تھا: ’لوگوں کی نجی فون کالز سننے کی بجائے اپنے دل کی آواز سُنیں۔‘

یہ تنظیم ستمبر کے اواخر میں خفیہ اداروں کے نالاں ارکان کو ’حمایت کی پیشکش‘ کی غرض سے بنائی گئی تھی۔

تنظیم نے بی بی سی کو بتایا کہ خفیہ ایجنسیوں کے بہت سے ایجنٹوں کی جانب سے مدد کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا ہے۔

ڈیگر کمپلیکس کے ایک مخبر نے انکشاف کیا ہے کہ ڈرون سے کتابچے گرائے جانے کے فوراً بعد سے ملازمین کی انٹیلی ایگزٹ کی ویب سائٹ تک رسائی ختم کردی گئی ہے۔‘

اسی بارے میں