سی ورلڈ میں کِلر ویل کی افزائش نسل پر پابندی

Image caption سی ورلڈ تحقیق اور دیکھنے کے لیے دو اضافی ٹینکوں کی تعمیر کا ارادہ رکھتا ہے۔

کیلفورنیا کے حکام نے سان ڈیاگو کے سی ورلڈ نامی واٹر پارک میں رکھی گئی کِلر ویل کی افزائشِ نسل پر پابندی عائد کر دی ہے۔

انھوں نے ایسا پارک میں توجہ کا مرکز اور مقبول کِلر وہیل کے مستقبل کے پیش نظر کیا ہے۔

کیلیفورنیا کے ساحلی کمیشن نے اسی فیصلے کے تحت سان ڈیاگو اکیوریم (مچھلی گھر) کو اپنی کلر وہیل مچھلیوں کے لیے نیا ٹینک بنانے کی اجازت دی ہے۔

دوسری جانب سی ورلڈ نے جمعرات کے ایک بیان میں اس فیصلے کو ’مایوس کُن‘ قرار دیا ہے۔

سی ورلڈ تحقیق اور دیکھنے کے لیے دو اضافی ٹینکوں کی تعمیر کا ارادہ رکھتا ہے۔

سی ورلڈ سان ڈیاگو پارک کے صدر جان ریئیلی کا کہنا ہے: ’افزائشِ نسل کسی بھی جانور کی زندگی کا فطری، اہم اور بنیادی حصہ ہے اور کسی سماجی جانور کو اس کے نسل بڑھانے کے حق سے محروم کردینا ایک غیر انسانی عمل ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ عمارت کا منصوبہ ایک شرط کے تحت منظور کیا گیا ہے ’جس کے تحت قید و بند کے ماحول میں افزائشِ نسل پر پابندی، مصنوعی طریقۂ افزائش اور قید میں رکھے جانے والے جانوروں میں سے کسی کی بھی تجارت، فروخت یا منتقلی پر پابندی عائد ہوگی۔‘

Image caption نئے ضابطے کے مطابق سی ورلڈ میں رکھی گیی کِلر ویل کو افزائش نسل پر پابندی لگائی گئی ہے

کمیشن کی ترجمان نواکی شوارٹز کے مطابق کمیشن کو مجوزہ توسیع کے لیے ایک لاکھ 20 ہزار افراد کی جانب سے ای میلز موصول ہوئیں جن میں سے زیادہ تر اس منصوبے کی مخالفت کرنے والوں کی ہیں۔

اس فیصلے سے سان ڈیاگو میں سی ورلڈ کے کاروبار متاثر ہوا ہے لیکن فلوریڈا یا ٹیکساس میں ان کی تجارت متاثر نہیں ہوگی۔

جانوروں کے حقوق کی تنظیم پیٹا کی جانب سے اس فیصلے کو سراہا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے یقینی طور پر شکاری یا کلر وھیل کی نمائش ختم ہو جائے گی۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا: ’اس سے کسی بھی شکاری وہیل کو تنہائی، محرومی اور مصائب بھری زندگی سے نجات ملے گی۔‘

سی ورلڈ کو حالیہ چند سالوں کے دوران سخت تنقید کا سامنا رہا ہے بالخصوص سنہ 2013 میں ’بلیک فش‘ نامی ایک دستاویزی فلم کی ریلیز کے بعد سے جس میں خاص طور پر کمپنی کے آرکا پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیاتھا۔

سی ورلڈ نے اس فلم کو ’غلط اور گمراہ کُن‘ قرار دیا تھا۔

گذشتہ کئی سالوں سے بہت سی نامور شخصیات کی جانب سے بھی سی ورلڈ کے قیدی جانوروں کے ساتھ رویے کی مذمت کی جاتی رہی ہے۔

اسی بارے میں