دن میں دو بار ویڈیو گیم تو اچھے گریڈ حاصل کرنا مشکل

Image caption تحقیق میں شامل 81 فیصد نوجوان روزانہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا کا استعمال بھی کرتے تھے

شمالی آئر لینڈ میں ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو بچے روزانہ دو مرتبہ ویڈیو گیم کھیلتے ہیں، ان کے لیے ثانوی تعلیم (جی سی ایس ای) کے امتحانات کے پانچ پرچوں میں اچھے گریڈ حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

شمالی آئر لینڈ کے نیشنل چلڈرن بیورو نے 2012 سے 2014 کے دوران 14 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 600 بچوں پر تحقیق کی۔

ویڈیو گیمز کیسے آپ کے دماغ کو تبدیل کرتی ہیں

تحقیق کے مطابق جب دن میں دو مرتبہ ویڈیو گیم کھیلنے والے بچوں کا مقابلہ ان بچوں سے کیا گیا جو ہفتے میں ایک مرتبہ سے بھی کم ویڈیو گیم کھیلتے تھے تو جی سی ایس ای کے کم از کم پانچ مضامین میں مطلوبہ گریڈ حاصل کرنے کا تناسب بالترتیب 41 اور 71 فیصد تھا۔

لیکن تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کی وجوہات کیا ہیں۔

انٹرنیٹ کا محفوظ استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption و جی سی ایس ای کے کم از کم پانچ مضامین میں مطلوبہ گریڈ حاصل کرنے کا تناسب بالترتیب 41 اور 71 فیصد تھا

’آئی سی ٹی اور میں‘ نامی یہ رپورٹ شمالی آئرلینڈ میں کی جانے والی پہلی طویل مدتی تحقیق ہے جو بچوں میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے استعمال کا ان کی ثانوی تعلیم کے نتائج پر پڑنے والے اثرات کا احاطہ کرتی ہے۔

تحقیق میں شامل 81 فیصد نوجوان روزانہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا کا استعمال بھی کرتے تھے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ طالب علموں کی سماجی نیٹ ورکنگ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور ثانوی تعلیم کے امتحانی نتائج کے درمیان تعلق کی کوئی قابل ذکر شماریاتی اہمیت نہیں ہے۔

تحقیق کے دیگر نتائج درج ذیل ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رپورٹ میں اس بات کی تجویز دی گئی ہے کہ حکومت ایسے منصوبے شروع کرے جن سے تمام نوجوانوں کی کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے

دس میں سے چار نوجوان اپنے جی سی ایس ای کے سالوں کے دوران چار یا اس سے زیادہ گھنٹے روزانہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، لیکن اس وقت کا زیادہ تر حصہ تفریح میں صرف کیا جاتا ہے۔ 43 فیصد نوجوان ایسے ہیں جو انٹرنیٹ کو اپنے ہوم ورک کے لیے روزانہ ایک گھنٹے سے کم وقت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

وہ طالبعلم جو کمپیوٹر پر اپنے ہوم ورک کے لیے روزانہ تقریباً تین گھنٹے گزارتے ہیں، امتحان میں بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں۔ ان میں 79 فیصد طالبعلموں نے جی سی ایس ای کے امتحانات میں مطلوبہ نتائج حاصل کیے۔

انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے ہوم ورک کے لیے بہت کم یا بہت زیادہ استعمال کے بھی اثرات بھی نوٹ کیے گئے۔ انٹرنیٹ پر روزانہ تین گھنٹے ہوم ورک کو دینے والے طالبعلموں کے مقابلے میں ہوم ورک کے لیے انٹرنیٹ پر کوئی وقت نہ گزارنے والے طالبعلموں کی کارکردگی بہت خراب تھی، جن میں صرف 57 فیصد طالبعلم ایسے تھے جو اپنے امتحان میں مطلوبہ نتائج حاصل کر سکے۔

البتہ موبائل فون یا ٹیبلیٹ کے استعمال اور جی سی ایس ای کے نتائج کے درمیان کوئی قابل ذکر شماریاتی تعلق نہیں بتایا گیا۔

رپورٹ میں اس بات کی تجویز دی گئی ہے کہ حکومت ایسے منصوبے شروع کرے جن سے تمام نوجوانوں کی کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے، لیکن ساتھ ہی والدین اور سرپرستوں کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ اپنے بچوں کے کمپیوٹر پرگیم کھیلنے کے اوقات کو محدود کریں۔

مزید تحقیق

Image caption وہ طالبعلم جو کمپیوٹر پر اپنے ہوم ورک کے لیے روزانہ تقریباً تین گھنٹے گزارتے ہیں، امتحان میں بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں

رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ اس بات کو جاننے کے لیے مزید تحقیق کی جائے کہ کمپیوٹر گیمز میں بہترین کارکردگی دکھانے والے سکول میں کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

شمالی آئرلینڈ کے نیشنل چلڈرن بیوریو کی ڈائریکٹر سلین مک سٹراوک کہتی ہیں: ’ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ کمپیوٹر کو ہوم ورک کے لیے استعمال کرنے سے طالب علموں کو معلومات یکجا کرنے میں مدد ملتی ہے اور وہ امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

’اس لیے سکولوں کو چاہیے کہ بچوں کو مستقل ایسے ہوم ورک دیں جس میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال کی ضرورت ہو۔

’اسی طرح ہمیں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ والدین اور سرپرست بچوں کے انٹرنیٹ پر ضرورت سے زیادہ گیمز کھیلنے پر پابندی لگائیں۔‘

تحقیق میں شمالی آئرلینڈ کے 13 سکولوں کے 14 سے 16 سال کی عمر کے 611 طالب علم شامل تھے، جن میں سے 65.5 فیصد نے 2012 سے 2014 کے دوران جی سی ایس ای کے امتحانات میں مطلوبہ نتائج حاصل کیے۔

اسی بارے میں