ایشیا کی انسانی تاریخ افریقہ سے بھی قدیم

تصویر کے کاپی رائٹ S Xing X J Wu
Image caption سائنسدانوں نے جدید انسانوں کے کم از کم 80 ہزار سال پرانے دانت دریافت کیے ہیں

چین میں حال ہی میں دریافت ہونے والے آثارِ قدیمہ نے تاریخی ترتیب کے اس نظریے کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کے تحت پوری دنیا میں پھیلے ہوئے نوعِ انسانی نے افریقہ سے آغاز کیا تھا۔

جنوبی چین کے علاقے ڈاؤ اوکسن میں سائنسدانوں نے جدید انسانوں کے کم از کم 80 ہزار سال پرانے دانت دریافت کیے ہیں۔

یہ قدیم آثار وسیع پیمانے پر تسلیم کی جانے والی ’افریقہ‘ سے باہر ہجرت سے بھی 20 ہزار سال پرانے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ اس کامیاب ہجرت کے باعث ہی دنیا بھر میں نوع انسانی کی آبادی وجود میں آئی تھی۔

حالیہ دریافت کی تفصیلات سائینسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہیں۔

جینیات اور آثار قدیمہ کی شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری نوع کا دنیا میں پھیلاؤ افریقہ سے 60 ہزار سال قبل ہوا تھا۔

قرنِ افریقہ میں رہنے والے انسانوں نے پانی کی نچلی سطح کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آبنائے باب المندب کے ذریعے بحیرہ احمر پار کیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ آج کے دور میں بسنے والے تمام غیر افریقی انسان ان ہی تارکین وطن کی نسل ہیں۔

ڈاؤ اوکسن کے علاقے فاِین کے غار میں کھدائی کے دوران 47 انسانی دانت دریافت ہوئے ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کی ڈاکٹرماریہ مختنون ٹورس نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں (ان کی ساخت سے) یہ واضح تھا کہ یہ دانت جدید انسانوں کے تھے۔ لیکن ان دانتوں کی تاریخ ہمارے لیے حیران کن تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ قدیم آثار کلسائیٹ مادے کی سطح کے نیچے محفوظ تھے جو کہ سخت چٹان کی مانند ہوتی ہیں اور انھوں نے ان دانتوں کو بالکل محفوظ رکھا تھا۔

انھوں نے کہا کہ چونکہ دانت کلسائیٹ کی سطح کے نیچے تھے اس کا مطلب ہے کہ وہ اس سطح سے بھی قدیم ہیں۔ کلسائیٹ کی سطح کے اوپر یورینیم کے سلسلے کے معدنی ذخائر کے نوک دار ٹیلے ہیں جو تقریباً 80 ہزار سال پرانے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ان 80 ہزار سال پرانے نوک دار ٹیلوں کی سطح کے نیچے پائے جانے والی ہر چیز ان سے بھی قدیم ہے۔ محققین کے مطابق وہ دانت سوا لاکھ سال پرانے ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں