ٹیزلا کی گاڑیوں میں ’آٹو پائلٹ‘ سافٹ ویئر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایلون مسک نے اس سافٹ ویئر کے استعمال میں احتیاط کو لازمی قرار دیا ہے

امریکہ کی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیزلا نے اپنی گاڑیوں کے لیے ایک ایسا سافٹ ویئر متعارف کروایا ہے جو گاڑیوں کو آٹو پائلٹ موڈ میں چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ سافٹ ویئر گاڑیوں کو مکمل طور پر خودکار نہیں بنائے گا، لیکن اس کی بدولت ماڈل ایس اور ماڈل ایکس گاڑیاں ’ہائی وے پر خود چل سکیں گی، اپنا راستہ ڈھونڈ سکیں گی اور گاڑی کی رفتار کو ٹریفک کے مطابق کم زیادہ کر سکیں گی۔‘

ٹیزلا کے چیف ایگزیکٹیو ایلون مسک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس کے استعمال میں احتیاط کو لازمی قرار دیا ہے۔

’اس کو استعمال کرتے وقت خیال رکھنا ہوگا کہ پیدل چلنے والوں کو ٹکر نہ لگے۔‘

انھوں نے کہا کہ گاڑی ٹکرانے کی صورت میں ڈرائیور ہی ذمہ دار ہو گا۔

قانونی کارروائیوں کے مکمل ہونے کے بعد دنیا کے باقی حصوں میں اس سافٹ ویئر کو اگلے دو ہفتوں کے اندر متعارف کرا دیا جائے گا۔

کسی مقام کا تعین کرنے اور راستہ بتانے کے لیے اس سافٹ ویئر میں کیمرے، ریڈار، الٹراسونک سینسر، اور نقشے استعمال کرتا ہے۔

منزل پر پہنچنے کے بعد سافٹ ویئر گاڑی کو پارک کرنے کے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

گاڑی چلانے کے لیے گوگل کے مکمل خود کار سافٹ ویئر کے برخلاف، ٹیزلا ان خصوصیات کو رفتہ رفتہ متعارف کروانا چاہتی ہے، جن سے لوگوں کو گاڑی چلانے کے بہت سے افعال خود سے انجام نہ دینے پڑیں۔

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اس سافٹ ویئر میں ابھی بھی کچھ خامیاں ہیں جن میں وقت کے ساتھ بہتری آئے گی۔

’شدید برفباری کی صورت میں اس سافٹ ویئر کے لیے کام کرنا مشکل ہو گا۔ لیکن وقت کے ساتھ اس کی کارکردگی انسانوں سے بہتر ہو جائے گی۔کیونکہ وہ انسانوں کی طرح کبھی تھکتا نہیں ہے، اس کو کبھی کچھ پینے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور وہ کبھی بھی کسی دوسرے ڈرائیور سے بحث میں نہیں الجھے گا۔ وہ اپنے راستے پر چلتا رہے گا۔‘

دوسری کمپنیاں جیسے بی ایم ڈبلیو اور وولوو بھی اپنی گاڑیوں میں خود کار نظام متعارف کروانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

گوگل کی مکمل خود کار گاڑی کیلیفورنیا کی سڑکوں پر دس لاکھ میل چل چکی ہے۔

اسی بارے میں