آن لائن خدمات: مدد یا آزادی کے لیے خطرہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBBOK
Image caption فیس بک نے زلزلے کے دوران متاثرہ علاقہ میں موجود سروس استعمال کرنے والوں کو نوٹیفیکشن بھیجا کہ اپنے دوستوں کو اپنے حالات سے مطلع کریں

پاکستان میں چند روز پہلے آنے والے زلزلے کے دوران پہلی مرتبہ انٹرنیٹ کارپوریشن یعنی گوگل اور فیس بک نے پاکستان میں ایسی سروسز کا آغاز کیا جس کے تحت لوگ اپنے پیاروں کی خیریت صرف ایک کلک کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں۔

فیس بک نے ’مارک یورسیلف سیو‘ یعنی زلزلے سے آپ محفوظ ہیں تو دوستوں کو بتائیں اور گوگل نے لوگوں کو ڈھونڈنے کے لیے ’گوگل فائنڈر‘ کا آغاز کیا۔

اس سروس کے آغاز کو جہاں سراہا جا رہا ہے وہی انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے کام کرنے والے بعض کارکن کا مطالبہ ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ صارفین کی معلومات کے کاروبای استعمال سے آگاہ کیا جائے۔

فیس بک نے زلزلے کے دوران متاثرہ علاقہ میں موجود سروس استعمال کرنے والوں کو نوٹیفیکشن بھیجا کہ اپنے دوستوں کو اپنے حالات سے مطلع کریں۔ بیشتر صارفین نے اس کا استعمال کیا۔ تو کیا گوگل اور فیس بک کو ہماری ہر نقل و حرکت کا پتہ ہوتا ہے ؟

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے کام کرنے والی کارکن صدف خان نے کہا ’گوگل یا فیس بک جیسی سروسز کے پاس نہ صرف ہمارا بے تحاشہ ڈیٹا موجود ہے بلکہ وہ اسے مسلسل مانیٹر بھی کرر ہے ہیں۔‘

’قدرتی آفات میں اس طرح کی سروسز مدد گار ثابت ہوتی ہیں اور ان کا مقصد صارفین کا بھروسہ حاصل کرنا ہے مگر یہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہیں کہ صارفین کی معلومات کس کس طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور اتنے وسیع پیمانہ پر کسی کی ذاتی معلومات کا استعمال بعض اوقات صارف کو مشکل میں ڈالنے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ یہ صارف کو غیر محفوظ بنا سکتا ہے۔‘

صدف خان نے مزید کہا کہ ’یہ کمپنیاں لوگوں کے لیے نہ صرف خرید و فروخت کے آپشنر محدود کر دیتی ہیں بلکہ نظریاتی سوچ کو بھی۔‘

اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا ’اگر آپ آون لائن گھر کا سامان ڈھونڈ رہے ہوں تو آپ کو ان سروسز پر انہیں دکان داروں کا پتہ دیا جائے گا جو انہیں پیسے دے رہی ہیں یعنی آپ کو پتہ بھی نہیں چلا اور اپ کے آپشنز نہایت احسن طریقہ سے محدود کر دیے گیے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گوگل نے لوگوں کو ڈھونڈنے کے لیے ’گوگل فائنڈر‘ کا آغاز کیا

’یہی نہیں اگر آپ دائین بازو کی سیاست سے متعلق زیادہ خبر رکھتے ہیں تو آپ کو آن لائن مہیا کی جانے والی معلومات کو زیادہ تر اسی کے ارد گرد ڈیزائن کر دیا جاتا ہے جس سے آپ دوسرا موقف سننے یا دیکھنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔‘

انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم بائٹس فار آل کے فرحان حسین کہتے ہیں ’فیس بک یا گوگل سروسز کے استعمال کی اہمیت کو نہیں جھٹلایا جا سکتا مگر لوگوں کی معلومات کو فروخت کر کے اشتہار بنانے والی کمپنیوں سے پیسے وصول کرنے کے اس کاروبار میں صارفین کو کافی حد تک محض پراڈیکٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور بدلے میں کچھ دینے کے بجائے محض ان کی انٹرنیٹ کی آزادی محدود کی جا رہی ہے۔‘

مگر فیس بک یا گوگل جیسی دیگر انٹرٹیٹ سروسز کا استعمال دنیا کی ایک بڑی آبادی اپنی مرضی سے کر رہی ہے۔ فیس بک پروفائل ہونا تو ایک ضرورت بن چکی ہے اور اسے استعمال کرنے کے لیے پیسے بھی نہیں دینے پڑ رہے۔

اس سلسلے میں فرحان حسین کا کہنا ہے ’ کوئی بھی آن لائن اکاؤنٹ بنانے سے پہلے جس معاہدے پر صارفین کو متفق ہونا پڑتا ہے وہ اتنا مشکل قانونی زبان میں لکھا جاتا ہے جسے بیشتر صارف بغیر پڑھے قبول کر لیتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت بیشتر صارفین کو نہیں معلوم ہو پاتا کہ ان سے ان کی معلومات کاروباری مقاصد کے لیے محض ایک کلک کے ذریعے لے لی گئی ہے ۔ یہ چاہیں تو اس معاہدے کو چند جملوں اور صاف زبان میں لکھ سکتے ہیں اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ان کمپنیوں کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔‘

انٹرنیٹ صارفین کی مدد کے لیے پیش پیش ان لاکھوں ڈالر کی مالیت کی کمپینوں کے بارے میں امریکہ کے نگرانی کے ادارے این ایس اے کے راز افشا کرنےوالے ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ فیس بک اور گوگل نے صارفین کو مطلع کیے بغیر ان کی معلومات مختلف ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ جس کے بعد دنیا بھر میں سماجی کارکنوں نے ان کمپنیوں کے کاروباری معاملات کو شفاف بنانے اور ان پر نظر رکھنے کے نظام کو موثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انٹرنیٹ کمپنیاں اپنی شفافیت کا ثبوت دینے کے لیے ایک سالانہ رپورٹ شائع کرتی ہیں جس میں مختلف حکومتی درحواستوں کی تعداد بتائی جاتی ہے جن کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا شیئر ہوتا ہے۔ مگر بعض انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے کام کرنے والے کارکناں کہتے ہیں کہ محض تعداد کے بارے میں بتانا کافی نہیں، ان کمپنیوں کو یہ بھی بتانا چاہتے کہ کس صارف کا کون سا مخصوس ڈیٹا کب اور کیوں شیئر کیا گیا؟