سٹور سے نکل جانے کا کہنے پر ایپل کی طالب علموں سے معافی

Image caption اس ویڈیو میں دکان کے ایک اہلکار کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ دکان کی حفاظت پر مامور اہلکار کو خدشہ ہے کہ یہ لڑکے دکان سے چیزیں چرائیں گے

امریکی ٹیکنالوجی ایپل نے سکول کے ان چھ طالبعلموں سے معافی مانگ لی ہے جن سے آسٹریلیا میں ایپل کی ایک دکان سے نکل جانے کے لیے کہا گیا تھا۔

اس رویے کے بارے میں ان طالبعلموں کا کہنا تھا کہ یہ نسلی تعصب پر مبنی تھا۔

آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں واقع ہائی پوائنٹ شاپنگ سینٹر میں پیش آنے والے اس واقعے کی ویڈیو منگل کے روز سامنے آئی جس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائیٹوں پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

اس ویڈیو میں دکان کے ایک اہلکار کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ دکان کی حفاظت پر مامور اہلکار کو خدشہ ہے کہ یہ لڑکے دکان سے چیزیں چرائیں گے۔

ایپل کا کہنا ہے کہ اس دکان کے مینیجر نے ان لڑکوں اور ان کے سکول کے ہیڈ ماسٹر سے معافی مانگ لی ہے۔ خیال رہے کہ یہ تمام بچے سیاہ فام تھے۔

ویڈیو بنانے والے طالبعلم فرانسس اوزے فیس بُک پر لکھتے ہیں کہ ’اگرچہ بعد میں انھوں نے معافی مانگ لی ہے لیکن یہ نسلی تعصب تھا۔‘

اس واقعے میں شامل ایک اور طالبعلم محمد سیمرا بعد میں اپنی فیس بُک پر کہتے ہیں کہ وہ ایپل کی جانب سے ملنے والے جواب سے مطمئن ہیں۔

وہ لکھتے ہیں: ’انھوں نے معافی مانگ لی ہے اس لیے ہم اب مطمئن ہیں، معاملے کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AMATOR VIDEO GORUNTUSU
Image caption فیس بُک پر اس واقعے کی ویڈیو کو اب تک 62 ہزار مرتبہ دیکھا جا چکا ہے اور تمام سماجی رابطوں کی ویب سائیٹوں پر اس واقعے کے بارے میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے

فیس بُک پر اس واقعے کی ویڈیو کو اب تک 62 ہزار مرتبہ دیکھا جا چکا ہے اور تمام سماجی رابطوں کی ویب سائیٹوں پر اس واقعے کے بارے میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

ویڈیو میں دکان پر کام کرنے والے ایک اہلکار کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’یہ لوگ۔۔۔ اس بات سے فکرمند ہیں کہ آپ لوگ شاید کچھ چُرا لیں گے۔‘

سکول کے بچوں کی جانب سے جب اس رویے پر احتجاج کیا گیا تو دکان کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ’بس بات ختم ہوگئی، مجھے آپ لوگوں سے کہنا پڑے گا کہ آپ ہماری دکان سے چلے جائیں۔‘

ویڈیو میں نظر آنے والے تمام طالبعلم میلبرن کے میری بی نونگ کالج میں دسویں جماعت میں پڑھتے ہیں۔

اسی بارے میں