برف کا تہوار لیکن گرمی نہیں جا رہی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بعض مجسمہ سازوں نے ہال کے اندر اور باہر کے مختلف درجہ حرارت کی شکایت کی ہے

بیلجیئم کے شہر بروژ میں برف کو تراش کر مجسمے بنانے کے فیسٹیول کے منتظم کا کہنا ہے کہ معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے توانائی کے بلوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آئیس میجک کے مینیجنگ ڈائریکٹر فرانسس وینڈینروپ نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ کولنگ کا بل 10700 ڈالر کے قریب ہوگا جو کہ توقع سے زیادہ ہے۔

رواں برس یورپ میں نومبر کے مہینے میں غیر معمولی گرمی ہے اور اتوار کو بروجز میں درجہ حرارت 16 ڈگری سیلسیس تک جا سکتا ہے۔

وینڈینروپ کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو سرد موسم کی امید تھی لیکن انھیں سردی نہیں ملی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آئس میجک کے مینیجنگ ڈائریکٹر برف کو دیکھ رہے ہیں

انھوں نے مزید کہا کہ ’سردی کے موسم میں ہر بار دیر ہوتی جا رہی ہے۔‘

برف کو پگھلنے سے بچانے کے لیے فیسٹیول 12 کولنگ کمپریسر استعمال کر رہا ہے تاکہ اس ہال کو ٹھنڈا رکھا جا سکے جہاں مجسمہ ساز کام کر رہے ہیں۔

کئی فنکاروں نے درجہ حرارت میں مسلسل تبدیلی کے باعث ہال میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی وجہ سے زکام ہونے کی شکایت کی ہے۔

ایک مجسمہ ساز کم آرینٹز کا کہنا ہے کہ ’آپ اس طرح بیمار ہو جاتے ہیں، لوگوں کی ناک بہہ رہی ہے اور یہ بہت مشکل ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’باہر موسم گرم ہے اور اندر کام کرتے ہوئے بہت ٹھنڈ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک اور برف کے مجسموں کا فیسٹیول سٹار وار طرز پر لیش میں ہونے والا ہے

اسی بارے میں