کوئلے اور لکڑی کے ایندھن سے پناہ گزینوں کی صحت کو خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رپورٹ کے مطابق ہر سال نقل مکانی کرنے والے افراد کے جانب سے لکڑیوں پر کھانا پکانا 20 ہزار اموات کا سبب بنتا ہے

ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کی جانب سے لکڑی اور کوئلے کے بطور ایندھن استعمال پر ’بہت زیادہ انحصار‘ سے ان کی صحت پر خوفناک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

زہریلی کھمبیاں کھانے سے درجنوں پناہ گزین بیمار

رپورٹ کے مصنفین کے مطابق نقل مکانی کرنے والے افراد کے جانب سے لکڑیوں پر کھانا پکانا ہر سال 20 ہزار اموات کا سبب بنتا ہے۔

ان کے مطابق ایندھن کے دیگر ذرائع مثلاً کھانا پکانے کے چولھے اور شمسی توانائی سے پیسے اور زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

یہ نتائج برطانوی تھینک ٹینک چیٹہیم ہاؤس نے ’موونگ انرجی انیشی ایٹیو‘ کے تحت شائع کیے ہیں۔

یہ پروگرام ان تنظیموں کے ایک بین الاقوامی کنسورشیم کے تحت شروع کیا گیا ہے جن کی توجہ اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے والے تقریباً چھ کروڑ افراد کے لیے محفوظ اور کم قیمت توانائی کے حصول کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 90 لاکھ کے قریب پناہ گزین جو اپنے گھروں کو چھوڑ کر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں انھیں ایندھن کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے معاون مصنف اور چیٹہیم ہاؤس کی سینیئر ریسرچ فیلو گلیڈا لان کہتی ہیں: ’ہم دنیا بھر میں نقل مکانی کا بحران اور تارکین وطن کا بحران دیکھ رہے ہیں اس لیے اس مسئلے کے حوالے سے یہ وقت اہم ہے۔

’ان افراد کی تعداد چھ کروڑ تک پہنچ رہی ہے اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہ تعداد آسٹریلیا اور کینیڈا کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رپورٹ کے مطابق 90 لاکھ کے قریب پناہ گزینوں کو ایندھن کی شدید کمی کا سامنا ہے

دنیا بھر میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے بارے میں گلیڈا لان نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ امداد کی کمی ہے۔

’اس حوالے سے حقیقی بحران ہے کہ کس طرح ان لوگوں کی حفاظت کی جائے، جو اکثر پرخطر صورت حال کا شکار ہوتے ہیں، تاکہ وہ کسی حد تک انسانی وقار برقرار رکھنے کے قابل ہو سکیں۔‘

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد جس ایندھن کا استعمال کرتے ہیں وہ معاشی، ماحولیاتی اور معاشرتی لحاظ سے ناقابل برداشت ہے، جس سے خواتین اور بچوں کی سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔

گلیڈا لان کے مطابق اس تحقیق سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ پناہ گزیں کیمپوں میں رہنے والے 90 فیصد افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’ان میں سے بیشتر رات کے وقت اندھیرے میں رہتے ہیں کیونکہ گلیوں میں روشنیاں نہیں ہیں۔ کھانا پکانے کے لیے لکڑی اور کوئلے پر بہت زیادہ انحصار ہے۔ تقریباً 77 فیصد توانائی لکڑی اور لکڑی کے کوئلے سے حاصل کی جاتی ہے۔‘

’اس ایندھن پر انحصار غیرمتناسب طور پر خواتین اور لڑکیوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ تقریباً ہمیشہ خواتین اور لڑکیاں ہی کیمپوں سے باہر لکڑیاں جمع کرنے جاتی ہیں۔ ان پر جنسی حملوں اور ریپ کے بہت سارے واقعات پیش آ چکے ہیں۔‘

رپورٹ میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعدد حل بھی پیش کیے گیے ہیں۔

اس میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ کھانا پکانے والے چولھے اور شمسی توانائی کے لیمپ متعارف کروائے جائیں جس سے ایندھن پر آنے والے اخراجات میں تقریباً 32 کروڑ ڈالر سالانہ بچت کی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ متعدد نجی کمپنیوں نے توانائی کے حصول کے لیے ماحول دوست نظام بھی تیار کیے ہیں جیسا کہ چھوٹے پیمانے پر شمسی گرڈ جو کم آمدن والوں کے لیے مناسب ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پناہ گزینوں کے کیمپوں کے لیے ایسے حل میزبان ممالک کو پیش کیے جا سکتے ہیں تاکہ علاقے کی آبادی کے لیے توانائی کا حصول اور توانائی کے تحفظ ممکن ہو سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رپورٹ کے مطابق لکڑیاں جمع کرنے کے کام کے دوران لڑکیوں اور خواتین پر حملے بھی کیے جاتے ہیں

برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کے وزیر گرانٹ شیپس کہتے ہیں: ’افریقہ کے زیرِ صحارا خطے میں ابھی تک لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو بجلی دستیاب نہیں ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو اندھیرے کے بعد تشدد کا خطرہ ہے، کنبے مٹی کے تیل کا زہریلا دھواں نگلنے پر مجبور ہیں اور توانائی بہت سارے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔

’ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے اور سرمایہ کاروں کو اپنے ساتھ شامل کرتے ہوئے، یہ وقت عمل کرنے کا ہے۔

’موونگ انرجی انیشی ایٹو کی مدد ایک اور راستہ ہے جس کے ذریعے برطانیہ صاف ستھری، قابل اعتماد اور کم قیمت توانائی تک رسائی میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ اس سے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آئے گی اور اقوام متحدہ کے سنہ 2030 تک توانائی کے حصول کے عالمی مقصد کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔‘

گلیڈا لان یہ تجویز پیش کرتی ہیں کہ اس مسئلے کو انسانی بنیادوں پر کام کرنے والوں کی جانب سے فوقیت دینا چاہیے۔

وہ کہتی ہیں: ’انسانی فلاح کا کام کرنے والے نظام میں توانائی پر تاحال غور و فکر نہیں کیا گیا۔ آپ کی توجہ پانی، رہائش، تحفظ وغیرہ پر ہے۔ ان بہت ساری چیزوں کا انحصار توانائی پر ہے لیکن توانائی پر بذات خود تواجہ نہیں دی جا رہی چنانچہ اس بارے میں طویل المدت منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔‘

اسی بارے میں