گوگل+ تنقید کے باوجود نئے انداز میں

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption گُوگل پلس بغیر کسی بڑی تشہیری مہم کے جون 2011 میں متعارف کروایا گیا تھا

سوشل میڈیا پر ایک عرصے مذاق کا نشانہ بننے والا گوگل پلس اب بھی ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نظر نہیں آتا اور اب گوگل نے اسے ایک نئی شکل دے دی ہے۔

گُوگل پلس کی نئی ویب سائٹ کی توجہ کا مرکز اب ’کلیکشنز‘ (دلچسپیوں کے مجموعے) اور ’کمیونیٹیز‘ (سماجی حلقے) ہوں گے تاکہ اسے ذاتی نوعیت کے نیٹ ورک سے زیادہ پسندیدہ مشاغل کے نیٹ ورک کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

گوگل کا نیا لوگو متعارف کروا دیا گیا

اپنے بلاگ پوسٹ میں گُوگل لکھتا ہے کہ ’ہم مکمل طور پر نئی شکل کے ساتھ گُوگل پلس کو متعارف کروانے کا آغاز کر رہے ہیں جس میں کمیونیٹیز اور کلیکشنز کو ترجیح دی گئی ہے۔ دلچسپیوں اور مشاغل پر انحصار کرنے والا گُوگل پلس استعمال میں پہلے کی نسبت آسان اور سادہ ہے۔‘

بلاگ پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم نے اسے انٹرنیٹ، اینڈروئڈ اور آئی او ایس کے حساب سے اسے از سرِ نو تشکیل دیا ہے اور اب اس کا استعمال موبائل فونز پر پہلے سے زیادہ سہل ہو گیا ہے۔ اب آپ بڑی سکرین استعمال کر رہے ہوں یا چھوٹی، آپ یکساں اور تیز رفتار تجربے سے گزریں گے۔‘

ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے گُوگل نیٹ ورک کے صارفین کے طریقہ استعمال کا تجزیہ کیا ہے کہ وہ کن مخصوص سہولیات کو استعمال کر رہے ہیں اور ان کے لیے بار بار کیوں گُوگل پلس کی جانب لوٹ کر آتے رہے ہیں۔

گُوگل پلس بغیر کسی بڑی تشہیری مہم کے جون 2011 میں متعارف کروایا گیا تھا۔

اس نیٹ ورک کے بارے میں اصل منصوبہ یہ تھا کہ اسے اصل زندگی میں ہمارے دوستوں، رفقائے کار اور گھر والوں کے ساتھ سماجی حلقوں کی طرز پر تشکیل دیا جائے۔

خیال تو عمدہ تھا لیکن اسے لوگوں نے آخر تک نہیں اپنایا۔

اُس وقت تک فیس بُک کے صارفین کی تعداد پہلے ہی 50 کروڑ تک پہنچ چکی تھی اور صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تھمنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔

حالیہ عرصے میں ایسا محسوس ہونے لگا تھا گویا گُوگل پلس آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہو۔

جیسے کسی گاڑی کی قدر ختم ہونے کے بعد اس کے کارآمد پُرزے الگ سے استعمال کیے جاتے ہیں اسی طرح گُوگل پلس کے عمدہ پہلوؤں کو الگ سے متعارف کروایا گیا تھا۔ مثال کے طور پر گُوگل پلس کی ہینگ آؤٹ ویڈیو چیٹ جیسی سہولت کو علیحدہ سے اپنی شناخت کے ساتھ متعارف کروایا گیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی صارفین کی ناپسندیدگی کے باعث یو ٹیوب کے ساتھ گُوگل پلس کا انضمام بھی ختم کر دیا گیا تھا۔

گُوگل پلس کی اپنی بقا کی جنگ جاری ہے۔ اگرچہ کہے اہداف اب 2011 جتنے بلند نہیں رہے ہیں لیکن مقاصد اب اور بھی واضح ہیں۔

کسی کو اس بات کی پروا ہوتی ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے۔ گُوگل پلس کی نئی شکل پیش کر دی گئی ہے تاہم جب تک مکمل طوپر نئی شکل متعارف نہیں کروا دی جاتی، صارفین ’پرانے‘ گُوگل پلس کو مختصر عرصے کے لیے استعمال کر سکیں گے ۔

اسی بارے میں