ایبولا پر عالمی ردعمل’انتہائی سست روی کا شکار‘ رہا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رپورٹ میں عالمی ادارۂ صحت کو سست روی کا مظاہرہ کرنے کے لیے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گيا ہے

صحتِ عامہ کے عالمی ماہرین کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ بین الاقوامی توجہ کی کمی اور رہنمائی کی ناکامی کے سبب ایبولا کی حالیہ وبا میں لوگوں کو تکالیف سے گزرنا پڑا اور بے جا ان کی جانیں گئیں۔

لندن سکول آف ہائیجین اور ٹراپیکل میڈیسن کی سربراہی میں تیار کی جانے والی رپورٹ میں اس طرح کی وبا سے مستقبل میں محفوظ رہنے کے لیے وسیع اصلاحات پر زور دیا گيا ہے۔

سنہ 2013 میں پھیلنے والی اس وبا میں 11 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور اس کی زد میں آنے والے ممالک میں گنی، لائبیریا اور سیئرالیون شامل تھے۔

رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ یہ ممالک وبا کو پہچاننے، اسے رپورٹ کرنے اور اس کے متعلق اقدام لینے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے ’ایبولا عالمی بحران کی صورت اختیار کر گیا۔‘

رپورٹ میں عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او پر سخت تنقید کی گئی ہے کہ اس نے ایبولا کو ’عالمی ہنگامی صورت حال‘ قرار دینے میں انتہائی سست روی کا مظاہرہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس وبا میں 11 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے

ہارورڈ گلوبل ہیلتھ کے ڈائرکٹر اشیش کمار جھا نے کہا: ’ڈبلیو ایچ او میں لوگ ایبولا کی وبا سے واقف تھے کہ موسم بہار تک قابو سے باہر ہو جائے گا۔۔۔ تاہم اس نے اگست میں جاکر اسے ناگہانی صورت حال قرار دیا اور اس تاخیر کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔‘

رپورٹ میں ڈبلیو ایچ او کی قیادت اور جوابدہی کی کمی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گيا اور کہا گیا کہ ’اس سے ڈبلیو ایچ او کے وقار اور ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے۔‘

ماہرین نے مستقبل میں اس قسم کی وبا سے نمٹنے کے لیے دس تجاویز بھی دی ہیں۔

ان میں غریب ممالک کے لیے امداد اور چھوت کی بیماری پر عالمی حکمت عملی کے علاوہ وبا کی بات بتانے میں تاخیر کرنے والے ممالک کو نادم اور شرمندہ کرنا، ڈبلیو ایچ او اس کے لیے مخصوص مراکز اور بجٹ، اور وبائی بیماریوں پر تحقیق اور ادویات و ویکسین تیار کرنے کے لیے عالمی فنڈ کا قیام شامل ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری میں دنیا بھر سے صحت کے شعبے کے 20 ماہرین شامل تھے۔

اسی بارے میں