ایمیزون کے خلائی جہاز کی دوسری کامیاب پرواز

تصویر کے کاپی رائٹ Blue Origin
Image caption بیزوں کے اس خلائی جہاز میں انسانوں کو شامل کرنے کی صلاحیت بھی شامل کی جائے گی

آن لائن خریداری کی کمپنی ایمیزون کے بانی جیف بیزوس کے مطابق ان کے ’نیو شیپرڈ‘ نامی خلائی جہاز کی دوسری پرواز کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔

دوبارہ استعمال کے قابل یہ خلائی جہاز پیر کو امریکہ کی مغربی ریاست ٹیکسس سے لانچ کیا گیا تھا اور اس میں کوئی انسان موجود نہیں تھا۔

ایمیزون خلائی راکٹ بنائے گی

ایک بڑے سیارچے کا زمین کے قریب سے سفر

آئندہ برسوں میں یہ خلائی جہاز مسافروں کو خلا میں لیکر جایا کرے گا۔

ایمیزون کی کمپنی نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’نیو شیپرڈ‘کا کیپسول اور راکٹ یونٹ باحفاظت زمین پر اتر چکے ہیں۔

اپریل میں جب اس خلائی جہاز نے اپنی پہلی پرواز کی تھی تو ہائیڈرالک سسٹم میں ناکامی کی وجہ سے اس کا راکٹ نظام زمین کی طرف نیچے آتے وقت کھو گیا تھا۔

’نیو شیپرڈ‘ 100 کلومیٹر کی بلندی تک چھ انسانوں کہ لیکر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خلائی جہاز نے پیر کو ہونے والے تجرباتی ٹیسٹ کے دوران 100 سے زائد کلومیٹر کی بلندی تک پہنچ کر اپنے ہدف کو مکمل کیا تھا۔

اس خلائی جہاز کے ڈیزائن کی وجہ سے اسے عمودی سمت میں اتارا اور اڑایا بھی جا سکتا ہے جس کی وجہ سے اس جہاز کو متعدد بار استعمال کرنا ممکن ہے۔

ایک سال قبل بیزوس کی کمپنی ’بلو اوریجن‘ کو یونائٹڈ لانچ الائنس کی جانب سے مائع میتھین سے چلنے والا ایک طاقتور راکٹ بنانے کا ٹھیکہ ملا تھا۔ یہ ادارہ امریکہ کی فوجی اور قومی سلامتی کے اکثر مشن خلا میں لے کر جاتا ہے اور وہ اس نئے راکٹ کو اپنے ولکن لانچر میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسی بارے میں