ملیریا سے لڑنے کے لیے مچھر سے مچھر کا مقابلہ

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption نئے مچھر میں ملیریا کے مرض کی ضد داخل کی گئی ہے جسے ملیریا کے خلاف اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے

امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جینیاتی طور پر ایسے مچھر کی افزائش کرلی ہے جو ملیریا کے انفیکشن کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

ان کہنا ہے کہ اگر لیبارٹری میں تیار کردہ اس تکنیک کے عملی تجربے کے مثبت نتائج سامنے آئے تو اس کے ذریعے ملیریا کے مچھروں کو انسانوں میں بیماری پھیلانے سے روکا جاسکے گا۔

سائنسدانوں نے ملیریا پھیلانے والے مچھروں کے ڈی این اے میں ایک ’مزاحمتی‘ جین کا اضافہ کیا ہے۔

جین میں ترمیم کے اس طریقے کو’ کرسپر‘ کا نام دیا گیا ہے۔

امریکہ کے سائنسی جرنل پی این اے ایس میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق ان جینیاتی طور پر تیار کردہ مچھروں کے آپس میں اختلاط کے بعد پیدا ہونے والے نئے مچھروں میں بھی وہ مزاحمتی جین پائے گئے ہیں۔

اصولی طور پر اگر یہ مچھر کسی انسان کو کاٹ بھی لیں تو وہ اپنے اندر پوشیدہ ملیریا کے جراثیم کو ان انسانوں میں منتقل کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

خیال رہے کہ دنیا کی تقریبا نصف آبادی میں ملیریا کا خطرہ موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان جینیاتی طور پر تیار کرد مچھروں کو بانجھ کردیا جائے تاکہ یہ غیر مضر ہو کر ختم ہوجائیں

حالانکہ ملیریا کو مچھر دانی، مچھرمارنے والی دواؤں اور دیگر مزاحمتی طریقوں سے روکا جاسکتا ہے، اور ملیریا کا شکار ہونے والے مریضوں کے لیے دوائیاں بھی ایک عرصے موجود ہیں لیکن اس کے باوجود ہر سال ملیریا سے تقریبا پانچ لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

ملیریا کے خلاف اہم کردار

سائنسدان ملیریا کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے طریقوں کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ٹیم کو یقین ہے کہ ان کے جینیاتی طور پر تیار کردہ مچھر ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان مزاحمتی مچھروں کی افزائش سے یہ بہت ممکن ہے کہ یہ ملیریا کے جراثیم پھیلانے والے مچھروں کی جگہ لے لیں۔

انھوں نے بھارت میں پائے جانے والے ایک خاص قسم کے مچھر اینوفلس سٹیفنسی کو تجربے کے لیے منتخب کیا۔

ڈاکٹر انتھونی جیمز اور ان کی ٹیم نے اس تجربے میں یہ دکھایا ہے کہ اس مچھرمیں نیا ڈی این اے داخل کر سکتے ہیں جن سے یہ مچھر ملیریا کے جراثیم رکھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ملیریا سے ہر سال تقریبا چھ لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں

اس کے ڈی این اے میں ملیریا کے جراثیم کی ایک ضد موجود ہے۔ یہی ڈی این اے افزائش کیے جانے والے 100 فیصد مچھروں میں تین نسلوں تک موجود پایا گیا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج امید افزا ہیں اور ہم یہ تجربہ مچھروں کی دوسری اقسام پر بھی کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حالانکہ یہ جینیاتی مچھر ملیریا کے مسئلے کا واحد حل نہیں ہے لیکن یہ ملیریا کے خلاف جنگ میں ایک کار آمد اضافی ہتھیار کا کام ضرور کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں