سیسے کے زہر سے سالانہ ایک لاکھ آبی پرندے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ WWT
Image caption سائنسدانوں کا کہنا ہے برطانیہ میں سیسے کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہر سال ایک لاکھ کے قریب آبی پرندے شکار کے دوران استعمال ہونے والے سیسے کے زہر کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

اس امر کا انکشاف جمعرات کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے تحت شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیسے سے شکار کیے گئے پرندوں کا گوشت کھانے سے انسانی صحت پر کہیں منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ثبوت اب اس بات کے لیے کافی ہیں کہ برطانیہ میں سیسے کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔

یہ تحقیق گذشتہ سال آکسفورڈ یونیورسٹی میں سیسے کی تباہ کاریوں کے حوالے سے ہونے والے ایک مذاکرے میں ماہرین کی جانب سے پیش کی گئی مختلف تحقیق کا مجموعہ ہے۔ اس میں یونیورسٹی اور مختلف گروپس کے مباحثوں بشمول وائلڈ فول اور ویٹ لینڈ ٹرسٹ (ڈبلیو ڈبلیو ٹی) اور آرایس پی بی (پرندوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والا ایک ادارہ) کے کیے گئے مطالعے کے نتائج بھی شامل ہیں۔

ماحول پر سیسے کے اثرات کے ساتھ ساتھ محققین نے پرندوں کے شکار کے لیے استعمال ہونے والے اسلحے سے بننے والے سیسے کے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے بھی تحقیقات کی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انگلینڈ اور ویلز میں شکار کیے جانے والے پرندے جیسے کہ چکور اور تیتر کو تو سیسے کے ذریعے شکار کیا جاسکتا ہے

آکسفورڈ یونیورسٹی میں زولوجی کے اعزازی پروفیسر اور برطانوی فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی کے سابقہ سربراہ لارڈ کریبس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات کے ’بہت زیادہ ٹھوس شواہد موجود ہیں‘ کہ شکار میں استعمال ہونے والے سیسے سے ’انسانوں اور جنگلی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس بنیاد پر شکار میں سیسے کے استعمال کی روایت کو ختم کرنے کی ہدایت کی جانی چاہیے۔‘

سنہ 1999 سے برطانیہ بھر میں شکار میں سیسے کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔ تاہم انگلینڈ، ویلز، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں اس حوالے سے قوانین مختلف ہیں۔ لیکن ڈبلیو ڈبلیو ٹی کا کہنا ہے کہ یہ قوانین جو کہ بڑے پیمانے پر آبی جانوروں کے شکار میں سیسے کے استعمال کو روکنے کے لیے بنائے گئے تھے اُن پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔

مثال کے طور پر انگلینڈ اور ویلز میں شکار کیے جانے والے پرندے جیسے کہ چکور اور تیتر کو تو سیسے کے ذریعے شکار کیا جاسکتا ہے لیکن شکاریوں کو بطخ اور قازوں (بڑی بطخیں) کے شکار کے لیے اس کی متبادل غیر زہریلے ہتھیار استعمال کرنا ہوتے ہیں۔

لیکن حال ہی میں ڈبلیو ڈبلیو ٹی نے انگلینڈ میں سپلائرز سے ’مقامی سطح پر شکار کی گئیں‘ 100 بطخیں خریدیں اور اُن کی جانچ کی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ تین چوتھائی سے زائد بطخیں ایسی تھیں جنھیں سیسے کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانیہ کی شکاری تنظیموں نے سیسے کے خلاف مہم کو شکار کے خلاف مہم قرار دیا ہے

وائلڈ فول اور ویٹ لینڈز ٹرسٹ کے رُتھ کرامی نے بی بی سی کو بتایا ’بہت بڑی تعداد میں لوگ (قوانین کو) نظر انداز کررہے ہیں۔‘

برطانیہ کی شکاری تنظیموں نے سیسے کے خلاف مہم کو شکار کے خلاف مہم قرار دیا ہے۔

شکار اور تحفظ کے حوالے سے کام کرنے والی برطانوی ایسوسی ایشن کی کرسٹو فر گرافیس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے ماحول میں پھیلنے والے سیسے کی مقدار کو پہلے ہی کم کر دیا ہے۔ اور جب بات کی جائے انسانی صحت کے حوالے سے تو ایک اندازے کے مطابق خطرات سے نمٹنے کے طریقہ کار بھی موجود ہیں۔ ہمیں فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی کی جانب سے شواہد فراہم کیے گئے ہیں جن کے مطابق یہ فائدہ مند ہیں۔ اس لیے اس پر پابندی بے فائدہ ہوگی، میں موزوں نہیں ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ تمام لوگ جو شکار کیے گئے پرندوں کا گوشت باقاعدگی سے کھاتے ہیں بالخصوص چھوٹے بچے اس کے منفی اثرات کے خطرات سے دوچار ہیں۔ اس سے اُن کی ذہنی نشوونما پر اثر ہوسکتا ہے۔‘

ڈنمارک میں سنہ 1996 سے سیسے کے ذریعے شکار یا اسے اپنے پاس رکھنے پر پابندی عائد ہے۔ برطانیہ میں تحفظ کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے اس قانون کو تجرباتی بنیادوں پر لاگو کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔

ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے شکاری اور ماہِر حَياتِيات نیلز کینسٹرپ کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اصل میں شکار کے لیے ہی فائدہ مند ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’ قُدرتی وسائل کے تحفُظ کا حامی ہوں اور میں ایک شکاری بھی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ قدرتی وسائل کے استعمال کا ایک منصفانہ اور پائیدار طریقہ ہے۔ لیکن ہم اسے فضا میں پھیلنے والی زہریلی بھاری دھاتوں کے ساتھ منسلک نہیں کرسکتے۔‘

اسی بارے میں