’ بامعنی معاہدہ دیں کیونکہ مستقبل کی نسل ہمیں دیکھ رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption میں یہاں ذاتی طور پر کہنے آیا ہوں کہ امریکہ نہ صرف اس مسئلے کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اس کے حل کے لیے کچھ کرنے کا پابند ہے

ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئی عالمی حکمتِ عملی پر اتفاقِ رائے کے لیے عالمی کانفرنس پیر سے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شروع ہوگئی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کانفرنس مستقبل میں درجہ حرارت میں اضافے کو محدود کرنے کی عالمی کوششوں میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے منعقد کی جانے والی اس کانفرنس کو COP21 کا نام دیا گیا ہے اور اس میں 195 ممالک کے مذاکرات کار کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے کسی متفقہ معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

پیرس میں عالمی کانفرنس سے قبل مظاہرے

’خشک سالی اور گرمی میں اضافے کا شدید خطرہ ہے‘

’عالمی درجہ حرارت کو خطرناک حد سے روکنا ممکن نہیں ہو گا‘

ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس، معاہدے کے حق میں ریلیاں

صدر اوباما نے کانفرنس کے شرکا پر زور دیا ہے کہ وہ بامعنی معاہدہ دیں کیونکہ مستقبل کی نسل ہمیں دیکھ رہی ہے۔

’میں یہاں ذاتی طور پر کہنے آیا ہوں کہ امریکہ نہ صرف اس مسئلے کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اس کے حل کے لیے کچھ کرنے کا پابند ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اجلاس کے دوران زیادہ تک گفتگو کا محور عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کو دو سنٹی گریڈ تک محدود کرنا ہوگا۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم نے یہ کر کے دکھایا کہ معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے ماحول کا خیال بھی رکھ سکتے ہیں۔‘

چین کے صدر شی جن پنگ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیرس کانفرنس کو اہم موڑ نہیں سمجھتے اور نہ ہی اختتام لیکن یہ نئی شروعات ہیں۔

11 دسمبر تک جاری رہنے والی کانفرنس میں تقریباً 40 ہزار افراد شرکت کریں گے جبکہ پیر کو 147 ممالک کے سربراہان اور سیاسی رہنما اس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے اس اجلاس کے دوران کسی معاہدے پر پہنچا جا سکے گا تاہم غریب اور پسماندہ ممالک نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی پر جلد از جلد نئے معاہدے کے معاملے میں انھیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

پیرس میں رواں ماہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد اس عالمی کانفرنس کے موقعے پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور پولیس نے اس مقام کی جانب جانے والی تمام سڑکیں عام آمدورفت کے لیے بند کر دی ہیں جہاں یہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔

کانفرنس کی صدارت کرنے والے فرانسیسی وزیرِ خارجہ لورین فیبیوس نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’یہ اجلاس وہ موڑ ہے جس کی دنیا کو ضرورت ہے۔‘

اس اجلاس کے دوران فرانس اور بھارت ایک عالمی اتحاد کی تشکیل کا اعلان بھی کرنے والے جو استوائی خطوں کے 100 ممالک کو شمسی توانائی سے بجلی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دنیا کے 48 کم ترقی یافتہ ممالک کے گروپ ایل ڈی سی کے ارکان اس اجلاس کے دوران کہیں گے کہ ڈیڑھ سنٹی گریڈ سے زیادہ اضافہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے

اس کے علاوہ دوبارہ قابلِ استعمال توانائی کے منصوبوں کے لیے مالی مدد کے اعلانات بھی متوقع ہیں۔

اس اجلاس کے دوران زیادہ تک گفتگو کا محور عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کو دو سنٹی گریڈ تک محدود کرنا ہوگا۔

دنیا کے 180 ممالک نے ماحولیاتی تبدیلیوں پر جو اپنے قومی منصوبے پیش کیے ہیں ان کے مطابق یہ اضافہ تقریباً تین سنٹی گریڈ تک ہو سکتا ہے۔

تاہم دنیا کے 48 کم ترقی یافتہ ممالک کے گروپ ایل ڈی سی کے ارکان اس اجلاس کے دوران کہیں گے کہ ڈیڑھ سنٹی گریڈ سے زیادہ اضافہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

کانفرنس میں افریقی ملک انگولا کی نمائندگی کرنے والے گزا مارٹنز نے کہا ہے کہ ’ اگر بات چیت کا مقصد دو سنٹی گریڈ ہی رہا تو کم ترقی یافتہ ممالک کی اقتصادی ترقی، علاقائی غذائی تحفظ، ایکو سسٹم حتیٰ کہ ان کی آبادی کی بقا اور ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے اس مطالبے کو دہرا رہے ہیں کہ ایک ایسے پرعزم اور لازم العمل معاہدے کی ضرورت ہے جس میں ہم میں سے سب سے کمزور ممالک کو پیچھے نہ چھوڑ دیا جائے۔‘

امید کی جا رہی ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام تک کانفرنس کے مندوبین معاہدے کا مسودہ تیار کر لیں گے جس پر پھر دنیا بھر وزرائے ماحولیات غور کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پیرس میں کانفرنس کے آغاز سے قبل مظاہرے ہوئے اور اطلاعات کے مطابق 100 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے

اسی بارے میں